Thursday, 08 February, 2007, 08:55 GMT 13:55 PST
فلسطینی تنظیموں حماس اور الفتح کے رہنماؤں نے سعودی عرب کے شہر مکہ میں دوسرے دن بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
سعودی عرب کی ثالثی میں کرائے جانے والے یہ مذاکرات غزہ میں جاری جھڑپوں کو ختم کرنے کی غرض سےکیے جا رہے ہیں۔
دونوں جانب کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مکہ میں رہیں گے جب تک وہ کسی اتفاق تک نہ نہیں پہنچ پاتے۔
حماس کے رہنما خالد مشعال نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک مکہ میں رہیں گے جب تک معاہدہ ہو نہیں جاتا۔خالد مشعال نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کریں۔
بدھ کو زداکرات کے شروع ہونے سے قبل فلسطینی رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک متحدہ فلسطینی حکومت کے قیام میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بدھ کو سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے فلسطین کے متحارب دھڑوں کے رہنماؤں نے سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور حماس کے لیڈر خالد مشعال اور وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نےشاہ عبد اللہ سے الگ الگ ملاقات کی۔
مبصرین کا کہنا ہے مکہ میں ہونے والے مذاکرات متحارب فلسطینی گروہوں میں اتحاد کا آخری موقع ہے۔
فلسطینی گروہوں میں پچھلے کئی ہفتوں سے جاری جھڑپوں میں درجنوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلسطینوں کا خیال ہے کہ الفتح اور حماس کی متحدہ حکومت کی صورت میں وہ اسرائیل کے خلاف زیادہ فعال مدافعت کرنے کے قابل ہوں گے اور ان فلسطینی پر عالمی پابندیاں کو جاری رکھنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔
بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار جرمی بوون کا کہنا ہے کہ فلسطینی گروہوں میں تعاون کی راہ میں حائل سب سے بڑی روکاٹ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا اور فلسطینی اتھارٹی میں عہدوں کی تقیسم ہے۔
حماس نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ الفتح اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتی ہے۔