Tuesday, 06 February, 2007, 09:12 GMT 14:12 PST
صدر بش کی عراق پالیسی کو چیلنج کرنے میں ناکامی کے بعد سینٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹرز نے عہد کیا ہے کہ وہ جلد یا بدیر وہ عراق کے مسئلے پر ایوان میں تفصیلی بحث کرائیں گے۔
سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے رہنما ڈیموکریٹ ہیری ریڈ نے کہا کہ ’مخالفین بھاگ تو سکتے ہیں لیکن چھپ نہیں سکتے۔‘
عراق کے موضوع پر تفصیلی بحث کے مسئلے پر ڈیموکریٹس ایک قرارداد منظور کروا کے عراق پالیسی پر صدر بش کی مذمت کرنا چاہتے تھے لیکن حکمراں ریپیبلکن پارٹی اس بحث کو روکنے میں کامیاب ہوگئی جس کے بعد الزام تراشیوں کا سلسلہ چل نکلا۔
قرارداد پر بحث کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹرز مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل نہ کر سکے کیونکہ چند عراق جنگ مخالف ریپیبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹی چھوڑ کر آزاد رکن کہلانے والے جو لائبرمین اس معاملے سے الگ رہے۔
رپبلکن ارکان نے سینیٹ میں مطلوبہ تعداد کی حمایت حاصل کر کے اس مسودۂ قرار داد پر تفصیلی بحث رکوا دی جس میں صدر بش سے کہا گیا تھا کہ عراق میں مزید فوج بھیجنے کے بجائے وہاں صورت حال بہتر بنانے کے لیئے دوسرے راستے اختیار کریں۔
اس قرار داد پر بحث شروع کرنے کے لیئے سو اراکین پر مشتمل سینیٹ میں ساٹھ ارکان کی حمایت درکار تھی لیکن اس کے حق میں اننچاس ووٹ اور اس کے خلاف سینتالیس ووٹ ڈالے گئے۔
دریں اثناء صدر بش نے اپنی بجٹ تجاویز میں عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے لیئے دو سو ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کرنے کو کہا ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک سرکردہ سینیٹر ہیری ریڈ کا کہنا ہے کہ امریکی عوام عراق میں امریکی مداخلت بڑہانے کے حق میں نہیں ہیں۔
امریکی سینیٹ نےصدر بش کی طرف سے عراق میں مزید امریکی فوج بھیجنے کے خلاف ایک قرار داد پر بحث شروع کر دی تھی
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ جس میں امریکی عوام کو حاصل طبی سہولیات میں کمی کی جا رہی ہے عام امریکی کی ضروریات کی عکاسی نہیں کرتا۔