Monday, 05 February, 2007, 20:53 GMT 01:53 PST
شام کے صدر بشرالاسد نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کو ختم کرنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایک امریکی ٹیلی وثرن کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا شام امریکہ اور خطے کے دوسرے ممالک کی مدد سے عراق کے معاملے میں ثالثی کر سکتا ہے۔
مسٹر اسد نے کہا کہ عراق میں شام کی اچھی ساکھ ہے اور وہ جنگ بندی کرانے میں مدد کر سکتا ہے۔
مسٹر اسد نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ عراق میں اپنی پالیسی کی ناکامی کے لیے شام کو ’ قربانی کا بکرا ‘ بنا رہا ہے۔
اے بی سی گڈ مارننگ امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں شام کے صدر نے کہا شاید امریکہ نے دوسرے فریق کی مدد سے عراق میں امن قائم کرنے کے موقع کو گنوا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ تقریباً چار سال کے قبضے کے بعد انہوں نے سبق نہیں سیکھا اور مذاکرات شروع نہیں کئے میرے خیال میں اب ان کی جانب سے مذاکرات کی کا سلسلہ شروع کرنےکے لیے بہت دیر ہو چکی ہے‘۔
مسٹر اسد کا کہنا تھا کہ بش انتظامیہ کے پاس عراق کے مستقبل کا کوئی خاکہ یا تصور نہیں ہے اور اس لڑائی کا کوئی سیاسی حل نکالنے کی کوشش کرنے کے بجائے فوجی طاقت پر کچھ زیادہ ہی انحصار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا امریکہ صرف فوج اور طاقت کی بات کرتا ہے کسی سیاسی عمل کی بات نہیں کرتا۔
مسٹر اسد نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سینیئر جارج بش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں امن حاصل کرنے کی خواہش تھی‘۔
دسمبر میں شائع ہونے والے عراق سٹڈی گروپ کے اعلی سطحی جائزے میں کہا گیا تھا کہ بش انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ خطے میں ایران اور شام کے اثرو رسوخ کا فائدہ اٹھائے۔
وہائٹ ہاؤس نے ان سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے مزید فوجی دستے عراق بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کر دیاتھا۔
انٹرویو کے دوران شام کے صدر نے امریکہ کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ شام عراق سرحد پار کرنے والے غیر ملکی مزاحمت کاروں کی مدد کر رہا ہے۔مسٹر اسد نے کہا کہ امریکہ ’قربانی کا بکرا ڈھونڈ رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ دمشق عراق میں مزید افرا تفری پھیلا کر شام میں اس کے برے اثرات نہیں پھیلانا چاہتا۔