http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 05 February, 2007, 14:35 GMT 19:35 PST

سینکڑوں پاکستانی تارکین پھنس گئے

مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ نےدو سو کے قریب غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی کشتی کو اپنے ساحل پر پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ان غیر قانونی تارکینِ وطن میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی یہ کشتی سنیچر کو سمندر میں خراب ہو گئی تھی اور سپین کی بحری فوج کے ایک جہاز نے اس کشتی کو کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادھیبو پہنچایا۔

جب ہسپانوی بحریہ نے موریطانیہ کے حکام سے غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی کشتی کے لیے مدد طلب کی تو انہوں نے مکمل انکار کرتے ہوئے خود کو اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیا۔

موریطانیہ کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں پھنسی ہوئی اس کشتی نے اپنا سفر میلوں دور واقع جزیرے گنی بساؤ سے شروع کیا تھا اور اس کشتی میں خرابی بھی موریطانیہ کی ساحلی حدود میں نہیں ہوئی۔ اس لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ اس کشتی کو پناہ دینے کا پابند نہیں ہے۔

موریطانیہ کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موریطانیہ کی حکومت کا غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی کشتی کی خرابی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس میں سوار لوگوں کی ذمہ داری لے سکتی ہے‘۔

ادھر ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ ہسپانوی بحری جہاز نے موریطانیہ سے پہلے اتوار کو غیر ملکی تارکینِ وطن کی کشتی کو سینیگال کی نزدیک ترین بندرگاہ پر لے جانے کوشش کی تھی لیکن سینیگال نے بھی اس کشتی کو واپس لے جانے کے احکامات جاری کر دیئے۔

سینیگال اور موریطانیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مقبول ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن کنیری جزیروں پر پہنچتے ہیں جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔