Monday, 05 February, 2007, 06:45 GMT 11:45 PST
برطانوی تنظمیوں کے ایک اتحاد نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
خیراتی اداروں، یونینز اور ’فیتھ گروپس‘ برطانوی وزیراعظم پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکہ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالیں۔
ایک رپورٹ میں ان گروپوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے ’ناقابلِ یقین‘ نتائج سے بچنے کے لیے برطانیہ کے بس میں جو ہے اسے کرنا چاہیے۔’ٹائم ٹو ٹاک: کیس آف ڈپلومیٹک سلوشنز آن ایران‘ نامی اس رپورٹ میں ٹونی بلیئر پر ممکنہ فوجی کارروائی کو ایک مذاکراتی مہرے کے طور پر استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
اس رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے لیبر جماعت کے سابق وزیر سٹیون ٹوئگ کا کہنا تھا کہ’ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتائج نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ ان کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’بدترین اندازوں کے مطابق بھی ایران ابھی جوہری ہتھیاروں کے حصول سے سالوں دور ہے۔ ابھی مذاکرات کا وقت باقی ہے اور وزیراعظم کو اس بات کا یقین کرنا چاہیے کہ ہمارے اتحادی یہ وقت مذاکرات کے لیے ہی استعمال کریں‘۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’اگر فوجی کارروائی ہوئی تو وہ مختصر نہیں ہوگی بلکہ اس کا خطے پر گہرا اثر پڑے گا اور اس کے اثرات دور دور تک محسوس کیے جائیں گے‘۔
امریکہ نے تاحال ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشن کو رد نہیں کیا ہے۔ وہ اور اس کے مغربی اتحادی ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری چاہتا ہے۔