Monday, 05 February, 2007, 13:15 GMT 18:15 PST
عراقی دارالحکومت بغداد میں پیر کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم از کم ستائیس افراد ہلاک اور نوے سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عراقی اور امریکی افواج بغداد میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک بڑا مشترکہ فوجی آپریشن شروع کرنے والی ہیں۔
پہلا خود کش بم دھماکہ بغداد کے جنوب مغربی علاقے السعیدیہ کے ایک پٹرول سٹیشن پر اس وقت ہوا جب وہاں پر پٹرول خریدنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ خودکش حملہ آور گندم سے بھرے ہوئے ٹرک میں پٹرول سٹیشن میں داخل ہوا جس کے بعد ٹرک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے میں دس افراد مارے گئے اور کم از کم ساٹھ زخمی ہوئے۔
عراقی دارالحکومت کے وسطی علاقے باب الشیخ میں مارٹر گولہ گرنے سے ایک شہری ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ المستنصریہ یونیورسٹی کے نزدیک بھی سڑک کے کنارے رکھا گیا ایک بم پھٹنے سے ایک راہگیر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔
العمل نامی علاقے سے مزاحمت کاروں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاع ملی ہے جس کی زد میں آنے سے ایک پچیس سالہ خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔
عراقی دارالحکومت بغداد میں مزاحمتی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے امریکی اور عراقی افواج کا مشترکہ آپریشن پیر سے شروع ہونے والا ہے۔ یہ آپریشن بغداد میں بنائے گئے ایک نئے کمانڈ سینٹر کی زیرِ نگرانی کیا جائے گا۔
عراقی فوج کے ایک شیعہ جنرل ابود گمبر اس کمانڈ سینٹر کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ آپریشن میں حصہ لینے کے لیے امریکی اور عراقی فوجی ہزاروں کی تعداد میں بغداد کی گلیوں میں جمع ہیں۔ آپریشن کے دوران وہ مزاحمت کاروں اور غیر قانونی ہتھیاروں کا کھوج لگائیں گے۔
دریں اثناء عراق کے سنی نائب صدر طارق ہاشمی نے امریکی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ عراق میں مزید فوجی بھیجنے کے اپنے منصوبے پر فوری عمل درآمد کرے تاکہ وہاں پر جاری تشدد پر قابو پایا جا سکے۔