http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 04 February, 2007, 07:16 GMT 12:16 PST

بغداد حملوں کا الزام شام پر

عراق کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ بغداد میں ہونے والے آدھے حملے شام سے آنے والے شدت پسند کرتے ہیں۔

علی الدباغ نے کہا کہ عراقی حکومت نے اس دعوے کی حمایت میں شام کی حکومت کو ثبوت دیئے ہیں۔

عراق میں بدترین تشدد کی تصاویر

اس سے قبل عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ وہ بغداد میں سنیچر کو ہونے والے بم حملے جیسے واقعات کا قلع قمع کے بعد ہی دم لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے سابق عراقی صدر صدام حسین کے حامیوں کا کام ہے۔ انہوں نے کہا ’عراقی عوام اور دنیا کو اس واقعے سے دھچکا پہنچا ہے۔ صدام کے حامی ایک نیا جرم کرنے کے لیے لوٹے ہیں اور ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ایسے جرائم کا خاتمہ کر دیا جائے گا‘۔

بغداد: ٹرک بم دھماکہ، 135 ہلاک

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا حملہ تھا جس کا نشانہ معصوم عوام تھے اور آزاد قوموں کو ایسے قتلِ عام کے وقت صرف تماشا نہیں دیکھنا چاہیے۔

سنیچر کو بغداد کے شیعہ اکثریتی الصدریہ ڈسٹرکٹ کے ایک بازار میں ہونے والے ٹرک بم دھماکے میں 135 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جب یہ دھماکہ کیا گیا تو لوگ رات کے کرفیو سے قبل اشیائے خوردونوش خرید رہے تھے۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس سے اردگرد کے سٹالز تباہ ہوگئے اور زمین میں گہرا گڑھا پڑ گیا۔ امدادی کارکن ملبے سے انسانی اعضاء، لاشیں اور زخمیوں کو نکال کر پک اپ ٹرکوں کے ذریعے ہسپتالوں تک پہنچاتے رہے۔

الصدریہ کے نزدیک واقع ابن النفیس ہسپتال کے وارڈ اور راہداریاں جلد ہی لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے جبکہ متاثرین کے رشتہ داروں کی چیخ و پکار دور دور تک سنی جاسکتی تھی۔

نومبر میں بغداد کے صدر سٹی میں کیے گئے دھماکے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بغداد ہی کے ایک مصروف بازار میں 22 جنوری کو پھٹنے والے بم سے 88 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

امریکی حکام بغداد میں مزید 21500 فوجی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سن 2003 میں امریکی قبضے کے بعد سے یہ اب تک کا کیا جانے والا سب سے بڑا انفرادی دھماکہ تھا۔