Sunday, 04 February, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST
امریکی فوج نے پہلی بار کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراق میں حالیہ ہفتوں میں لاپتہ ہونے والےچار امریکی ہیلی کاپٹروں کوغالباً مار گرایا گیا ہے۔
عراق میں امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں حکمت عملی اور مشن کے عمل میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔
20 جنوری سے اب تک تین فوجی ہیلی کاپٹر او رایک نجی طیارہ مار گرایا گیا ہے جس میں 20 امریکی ہلاک ہوئے ہیں۔
مئی 2003 سے عراق میں 50 سے زیادہ فوجی ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو چکے ہیں۔جن میں آدھے سے زیادہ مزاحمت کاروں کی فائرنگ کا شکار ہوئے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے حالیہ واقعات سے نئے سوال پیدا ہوئے ہیں کہ آیا مزاحمت کار زیادہ جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں یا پھر امریکی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
میجر جنرل ولیم کیڈویل نے بغداد میں نامہ نگاروں سے کہاہے کہ ’حالانکہ اس سلسلے میں ہونے والی تحقیقات نا مکمل ہیں لیکن ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کسی فائرنگ کے نتیجے میں تباہ ہوئے ہیں‘۔
انہوں نے کہا جب سے ہم عراق میں آئے ہیں تب سے ہی ہمارے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں کے حالات کے پیش نظر ہم پہلے سے ہی اپنی حکمت عملی اور ہیلی کاپٹروں سے متعلق تکنیک میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں۔
انہو نے ان تبدیلیوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
عراق میں امریکی فوجی کارروائیوں میں ہیلی کاپٹر کا استعمال بہت اہم ہے جن میں فوجیوں اور سازو سامان کو ادھر سے ادھر لانا لےجانا ، مشتبہ مزاحمت کاروں کے خلاف حملے کرنا اور زمینی فوج کی مدد وغیرہ شامل ہے۔