Sunday, 04 February, 2007, 02:37 GMT 07:37 PST
مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ فلسطینی گروپوں حماس اور فتح کے درمیان قومی یکجہتی کی حکومت تشکیل دینے کے بارے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر حسنی مبارک کے اس اعلان کے وقت بھی غزہ میں فلسطینی گروپوں میں لڑائی جاری تھی جس میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع تھی۔
فلسطینی گروپوں میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری لڑائی میں کم از کم پچیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دوران کئی مرتبہ دونوں گروپوں میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا لیکن اس پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
مصر کے دورے پر آئی ہوئی جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں حسنی مبارک نے کہا کہ وہ دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا’ اس وقت جو ہو رہا ہے یہ فلسطینیوں کا باہمی مسئلہ ہے اور فلسطینی گروپ آپس میں اتحاد قائم کیے بغیر اسرائیل سے مذاکرات نہیں کر سکتے‘۔
فلسطین کے وزیرِ داخلہ سعید صیام نے بھی سنیچر کو کہا تھا کہ وہ اور الفتح کے رہنما راشد ابوشبک’فوری جنگ بندی، مسلح افراد کو سڑکوں اور گھروں کی چھتوں سے ہٹانے اور حفاظتی چوکیاں ختم کرنے‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ تاہم بی بی سی کے ایلن جونسٹن کے مطابق دونوں دھڑے جمعہ کو بھی انہی امور پر متفق ہوئے تھے لیکن تشدد نہیں رک سکا تھا۔