Sunday, 04 February, 2007, 03:55 GMT 08:55 PST
بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے ایک مذہبی اجتماع میں تیس لاکھ افراد شرکت کر رہے ہیں جس میں دنیا بھر کے ساٹھ ملکوں میں رہنے والے مسلمان شرکت کریں گے۔
ہر سال مکہ میں حج کے بعد یہ مسلمانوں کو دوسرا بڑا اجتماع ہے جس میں وہ ن اجتماعی طور پر عبادت کرتے ہیں اور قرآن کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ اجتماع اتوار کو اجتماعی دعا پر اختتام پذیر ہوگا۔
تین دنوں تک ڈھاکہ کے قریب دریائے تورگ کے کنارے خیموں کا شہر دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں سے آباد رہے گا۔
خیموں میں چند گھنٹے گزارنے کے بعد آپ کے کان ہزاروں گیس کے سٹوو (چولھوں) سے اٹھنے والے شور کے عادی ہو جائیں گے جن پر اجتماع میں شریک لاکھوں افراد کے لیے کھانے پکائے جاتے ہیں۔
اتوار کو اجتماعی دعا کے وقت پورے علاقے میں ہر کھلی جگہ اور چھت پر دعا کرتے ہوئے لوگ ہی نظر آئیں گے۔
اس سال اجتماع کے موقع پر سکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے اور دس ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ملک بنگلہ دیش میں اس موقع پر کسی قسم کی گڑبڑ کا کوئی خطرہ نہیں لیکن حال ہی میں بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے چند واقعات ہوچکے ہیں۔
اتوار کو اجتماعی دعا کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگ پیدل ہی ڈھاکہ کی طرف روانہ ہوں گے جو اجتماع کی جگہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔