Saturday, 03 February, 2007, 10:38 GMT 15:38 PST
غزہ میں نئی جنگ بندی کے بعد اگرچہ الفتح اور حماس کے کارکنوں کے درمیان مسلح جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم مجموعی طور پر شہر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
سنیچر کو ابتداء میں فائرنگ کے وقعات کے بعد وسطی غزہ میں سکون ہے اور زندگی معمول کی جانب لوٹ رہی ہے۔ جمعہ کو جنگ بندی سے قبل چوبیس گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں بائیس افراد ہلاک اور کم از کم دو سو زخمی ہوئے تھے۔
روس، امریکہ یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ پر مشتمل مشرقِ وسطٰی کے حوالے سے مصالحت کاروں کے گروپ نے حالیہ تشدد پر’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
غزہ میں بی بی سی کے نمائندے ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح غزہ کے باسیوں کی آنکھ فائرنگ کی آوازوں سے کُھلی۔ تاہم جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کسی گروپ کی جانب سے کوئی بڑی مسلح کارروائی نہیں کی گئی۔
جمعہ کو حماس اور الفتح کے رہنماؤں نے اپنے مسلح کارکنوں کو ہٹانے اور حفاظتی چوکیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا تاہم تاحال کوئی ایسی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔
حماس اور الفتح کے رہنماؤں کے درمیان سنیچر کو جنگ بندی کے حوالے سے ایک اور ملاقات متوقع ہے اور اطلاعات کے مطابق اس لڑائی کے خاتمے کے حوالے سے فلسطینی صدر اور الفتح کے سربراہ محمود عباس منگل کو حماس کے سیاسی سربراہ خالد مشعل سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔
کئی ہفتوں سے حماس اور الفتح کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ ایک سال قبل حماس انتخابات جیت کر اقتدار میں آئی تھی اور اس وقت سے ایک متحدہ قومی حکومت بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔