Friday, 02 February, 2007, 11:04 GMT 16:04 PST
غزہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح اور وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کی جماعت حماس کے کارکنوں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور ایک سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جمعہ کو حماس کے کنٹرول میں فلسطینی وزارت داخلہ پر الفتح کے درجنوں مسلح کارکنوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ مسلح جھڑپوں اور دھماکوں کی اطلاعات بھی ہیں۔
دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان مسلح جھڑپیں جمعرات کی شب شروع ہوئیں تھیں۔ حماس کے کارکن وزارت داخلہ کے قریب ایک ایسے مقام پر راکٹ فائر کر رہے جو الفتح کے کارکنوں کے قبضے میں ہے۔ رات بھر غزہ میں مشین گن کی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
کئی مہینوں سے حماس اور الفتح کے درمیان اقتدار کی لڑائی جاری ہے اور ایک متحدہ قومی حکومت بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ ایک سال قبل حماس انتخابات جیت کر اقتدار میں آئی تھی۔
اس سے پہلے الفتح کے کارکنوں نے ایک یونیورسٹی پر بھی حملہ کیا جسے حماس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ جمعرات کو دونوں دھڑوں کے درمیان دن بھر ہونے والی جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے اور تین روز پہلے ہونے والی لڑائی بندی ختم ہو گئی۔
غزہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ شہر کے لوگوں کی نظر میں خانہ جنگی کا امکان مسلسل بڑھتا جا رہا ہوگا۔
دریں اثناء واشنگٹن میں یورپی یونین، امریکہ، اقوام متحدہ اور روس فلسطینی معاملے پر ایک ملاقات کرنے والے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ان تینوں ممالک نے حماس کی حکومت کو مالی فراہمی بند کررکھی ہے۔