Thursday, 01 February, 2007, 12:26 GMT 17:26 PST
امریکہ نے ایران کو دی جانے والی وارننگز کے سلسلے میں تازہ ترین وارننگ جاری کی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ عراق میں مزاحمت کاروں کی ایسے ہلاکت خیز بموں کی تیاری میں مدد دینا بند کر دے جنہیں امریکی فوجیوں پر حملوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی انڈر سیکرٹری خارجہ نکولس برنز نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے کئی ایسے مشکوک ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جو شیعہ مزاحمت کاروں کو ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی فراہم کر رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے مزاحمت کاروں کو دی جانے والی اس امداد کا دائرہ بصرہ کے شمال سے بغداد تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکی اور برطانوی ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
ایران نے بارہا تردید کی ہے کہ وہ عراق میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔
نکولس برنز نے بی بی سی کو بتایا کہ 11 جنوری کو امریکی فوج نےپانچ ایسے ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جو ایرانی محافظان ِ انقلاب کے القدس فورس سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’شمالی عراق سے گرفتار ہونے والی پانچ ایرانی کاروباری لوگ نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق نیم فوجی دستوں سے ہے‘۔
کنولس برنز نے دعویٰ کیا ہے کہ ’یہ لوگ ایرانی حکومت کے اہلکار اور جاسوسی کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور فرقہ ورانہ تشدد میں ملوث ہیں‘۔
امریکی صدر جارج بُش نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فوج کو ایران کی طرف سے مبینہ مداخلت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا اختیار دے دیا گیا ہے۔