Wednesday, 31 January, 2007, 13:18 GMT 18:18 PST
امریکی ماہرین کی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق عراق میں تعمیر نو کے نام پر مختص کیئے جانے والے کروڑوں ڈالر کے فنڈز ضائع ہورہے ہیں جن کی ایک بڑی مثال بغداد میں پولیس کیمپ میں بنایا جانے والا عالمی معیار کا سوئمنگ پول بھی ہے۔
امریکی آڈیٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں عراق کی تعمیر نو کے لیئے مہیا کیئے جانے والے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خرد برد اور کرپش کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔
ہر تین ماہ بعد ہونے والے اس آڈٹ میں کہا گیا ہے بغداد میں پولیس کا ایک تربیتی مرکز بنایا گیا اور اس میں عالمی معیار کا ایک سوئمنگ پول بھی تعمیر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تربیتی کیمپ کبھی استعمال میں نہیں آیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعمیر نو کے لیے مختص اربوں ڈالر ابھی تک زیر استعمال نہیں لائے جا سکے ہیں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آئی ہے جب بش انتظامیہ کانگرس سے عراق کی تعمیر نو کے لیے ایک عشاریہ دو ارب ڈالر مزید مختص کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
![]() | |
| عراق میں جنریٹرز کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ |
تقریباً پانچ سو اسی صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں جس کو بدھ کو باقاعدہ طور پر پیش کیا جانے والا ہے کہا گیا ہے کہ عراق میں بدامنی ہر شعبے میں تعمیر نو کے لیے کیئے جانے والے اقدامات کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
آڈیٹرز نے عراق کی موجودہ حکومت کے فنڈز استعمال کرنے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عراق کی تعمیر نو |
ڈیموکریٹ ارکان جن کی اب کانگرس میں اکثریت ہے عراق میں تعمیر نو کے نام پر مزید فنڈ مہیا کرنے کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔
رپبلکن ہینری ویکسمین آئندہ ہفتے عراق میں فنڈز کے ضائع ہونے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سن دو ہزار تین کے بعد سے تعمیراتی فنڈ کے استعمال کرنے کی ترجحیات تبدیل ہو گئی ہیں اور اب جمہوریت اور سیکیورٹی پر زیادہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے اور تعمیراتی منصوبوں کو نسبتاً کم فنڈز دیئے جا رہے ہیں۔
بجلی کی فراہمی جنگ سے قبل کے معیار تک نہیں آسکی ہے لیکن اس کے باوجود بجلی اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے مہیا کیئے جانے فنڈز میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
اس رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ، جیلوں اور پولیس نظام کو بہتر بنانا عراقی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
امریکی حکومت نے ان شعبوں پر اربوں ڈالر خرچ کیئے ہیں لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
او