Tuesday, 30 January, 2007, 09:59 GMT 14:59 PST
عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت دیگر علاقوں میں عاشورہ کے دن بم دھماکوں اور مارٹر حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ان واقعات میں سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کا تازہ ترین واقعہ بغداد کے سنّی اکثریتی علاقے احمدیہ میں پیش آیا جہاں رہائشی آبادی پر مارٹر گولے گرنے سے کم از کم دس افراد مارے گئے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ منگل کی صبح بغداد میں شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے دو حملوں کے جواب میں کیا گیا یا نہیں۔
اس سے قبل بغداد کے شمال مشرقی حصے خانقین میں کوڑے کی ٹوکری میں رکھا گیا بم پھٹنے سے کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والے افراد مقامی مذہبی ہال میں پیغمبرِ اسلام کے نواسے کی شہادت کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔
اس واقعے کے ایک گھنٹے کے بعد بلدروز کے علاقے مندلی میں ایک اور خودکش بم حملہ ہوا جس میں انیس افراد ہلاک ہوگئے۔ طبی عملے نے پہلے تئیس افراد کی ہلاکت کی خبر دی تھی تاہم بعد ازاں پولیس نے مرنے والوں کی تعداد انیس بتائی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے کی ایک شیعہ مسجد میں لوگ عبادت کے لیے جمع تھے کہ ایک شخص نے اپنی کمر سے بندھا بم پھاڑ دیا۔
دھماکے کا نشانہ بننے والے علاقے خانقین اور مندلی ایرانی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ اس علاقے میں کردوں، سنی اور شیعہ آبادی کا ملا جلا تناسب ہے۔
بغداد کے مغربی حصے میں عاشورہ کے موقع پر زائرین کی دو بسوں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں کم از کم چار زائر مارے گئے۔