Tuesday, 30 January, 2007, 09:13 GMT 14:13 PST
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ملک کے انتخابات اگلے تین ماہ تک نہیں منعقد کروائے جاسکتے۔
ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ ووٹرز کی رجسٹریشن نئے سرے سے ہونے تک انتخابات سے متعلق تمام سرگرمیان روک دی جائیں۔
یہ حکمنامہ عدالت میں دائر ایک درخواست کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ووٹرز کی رجسٹریشن کا عمل ناقص ہے۔
اس ماہ کے آغاز پر عبوری صدر اعجاز الدین احمد اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے اور 22 جنوری کو ہونے والے انتخابات کو موخر کروادیا تھا۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی پوچھا ہے کہ انتخابات کے لیے جنوری کی مجوزہ تاریخ تک ووٹرز لسٹ کیوں اپ ڈیٹ نہیں کی گئی۔
خونریز فسادات حزب اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئی علاقوں میں خونریز فسادات میں تبدیل ہوگئے تھے جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ |
انتخابی عمل کے بارے میں ہائی کورٹ میں درخواست ایک شہری قاضی مامون الرشید نے دائر کی تھی۔ ان کی رائے میں تازہ ووٹرز لسٹ کے بغیر ملک میں منصفانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔
گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ کے نئے سربراہ فخر الدین احمد نے عہد کیا تھا کہ بدعنوانی اور تشدد پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حزب اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئی علاقوں میں خونریز فسادات میں تبدیل ہوگئے تھے جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔