http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 28 January, 2007, 04:47 GMT 09:47 PST

شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن

عراق جنگ کیخلاف واشنگٹن احتجاج

امریکی دارالحکومت میں دسیوں ہزار امریکیوں نے صدر جارج بش کی نئی عراق پالیسی کے خلاف جلسہ میں عراق سے امریکی فوجوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

جلسے میں مظاہرین نے جارج بش اور نائب صدر ڈک چینی کو جھوٹا‘ دہشتگرد‘ اور ’جنگی جرائم کے مجرم‘ جیسے خطابات سے نوازا ہوا تھا۔

واشنگٹن میں جنگ مخالف مظاہرہ: تصاویر

واضح رہے کہ امریکی کانگریس آئندہ ہفتے صدر بش کے اس اعلان پر اپنا ردِ عمل ظاہرکرنے والی ہے کہ عراق کے لیے مزید 20 ہزار فوجی عراق بھیجے جا رہے ہیں۔

جلوس میں فوجیوں کے خاندانوں، سیاستدانوں، انسانی حقوق اور بائیں بازوں کی تنظیموں کے علاوہ عام لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کافی لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مارچ میں شریک نظر آئے۔

ہالی وڈ کی شخصیات میں اداکار شان پین، ٹم رابنز کے علاوہ جین فانڈا نے جلسے سے خطاب کیا۔اس موقع پر جین فونڈا نے کہا کہ وہ ویتنام جنگ کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے کے چونتیس برس بعد ایک بار پھر جنگ مخالف جلسے میں شرکت پر مجبور ہوئی ہیں، کیونکہ ان کے بقول امریکی حکمرانوں نے ویتنام جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام مذید ’خاموش بیٹھے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے‘۔

واشنگٹن میں کانگریس کی بڑے سفید گنبد والی عمارت کے گرد جنگ مخالف مظاہرے میں لوگ دور دور سے آئے۔ آس پاس والی ریاستوں کے لوگ بسوں اور کاروں میں پہنچے جبکہ باقی ملک سے لوگوں نے اپنے خرچے پر پروازوں کے ذریعے واشنگٹن کا رخ کیا۔
ہالی وڈ کی شخصیات میں اداکار شان پین، ٹم رابنز کے علاوہ جین فانڈا نے بھی احتجاج میں حصہ لیا

بش مخالف جلسے کے لیے دن بہت اچھا تھاا۔ سردی کم تھی اور دھوپ نکلی رہی۔ جلسے میں شامل امریکیوں نے ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ انداز میں مذید افواج عراق بھییجنے کے فیصلے کے پر اپنی مخالفت کا اظہار کر رہے تھے۔

لوگوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’آؤٹ آف عراق‘ یعنی عراق سے انخلا کا مطابہ درج تھا۔ بعض پلے کارڈز پہ ’مسلمانوں اور عربوں کے خلاف نسلی تعصب کی جنگ بند کرو!‘ لکھا نظر آیا۔ کئی جگہ پر مظاہرین امریکی پرچم میں لپٹے خالی تابوت اٹھائے نظر آئے جن کے اوپر فوجی جوتے رکھے ہوئے تھے۔