Saturday, 27 January, 2007, 01:57 GMT 06:57 PST
صدر جارج بش نے واضح کیا ہے کہ وہ مزید بیس ہزار فوجی عراق بھیجنے کے راستے میں پیدا کی جانے والی امریکی کانگریس کی کسی بھی کوشش کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔
صدر بش کو عراق پر اپنی نئی حکمت کے حوالے سے واشنگٹن میں کڑی مخالفت کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ فیصلے کرنا ان کا منصب ہے اور اپنے کسی منصوبے پر نظرِ ثانی نہیں کریں گے۔
صدر بش نے اگمریکی افواج کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ، واشنگٹن کے بقول ایرانی مداخلت کے خطرے ہر ضروری اقدام کریں۔
صدر بش واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی اس خبر پر ردِ عرمل کا اظہار کر رہے تھے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو عراق میں موجود ایرانی سرگرموں کو ہلاک کرنے کی ہداگیت دی گئی ہے۔
ان کہ کہنا ہے کہ بعص لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم چونکہ باہر کے عناصر کو عراق میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت سے روک رہے ہیں اس لیے ہم اس کام کو سرحد پار بھی لے جا سکتے ہیں، یہ مفروضہ سرے سے صحیح نہیں ہے۔
صدر بش نے کہا ہے کہ ’ہمارا خیال ہے کہ ہم ایران سے اپنے مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کر سکتے ہیں اور ہم اس پر کام بھی کر رہے ہیں اور اس میں خاصی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
دوسری طرف امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے، جو صدر بش کی عراق پالیسی پر شدید تنقید کرتی رہی ہیں، عراق کے اچانک دورے پر بغداد میں ہیں اور انہوں نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے مذاکرات بھی کیے ہیں جس کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق نے نینسی پولسی کو یقین دلایا ہے کہ عراق سلامتی کے ان تمام فرائص کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے جو اس وقت امریکی قیادت میں غیر عراقی افواج انجام دے رہی ہیں۔
نینسی پلوسی امریکی کانگریس میں حزب اختلاف یعنی ڈیموکریٹِک پارٹی کی سب سے اہم سیاستدان ہیں۔ ان دنوں کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹِک پارٹی کا کنٹرول حاصل ہے۔