Saturday, 27 January, 2007, 06:12 GMT 11:12 PST
عراق کے نائب صدر عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران سے معاملات کو مذاکرات سے حل کرنے کے حق میں ہے۔
وہ صدر بش کے اس بیان کے حوالے سے دیے جانے والے بیان کے حوالے سے کیے جانے والے ایک سوال کا جواب دے رہے جس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ عراق میں بد امنی کا ذمہ دار ایران ہے۔
صدر بش نے امریکی فوجیوں سے کہا ہے وہ اس معاملے پر قابو پانے کے لیے جو بھی ضروری ہو کریں۔
عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ اس مسئلے کو صرف مذاکرات ہی سے حل کیا جانا چاہیے ۔
ان کا کہنا ہے کہ عراق کسی کو بھی ہلاک کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ خواہ وہ امریکیوں کے ہاتھوں امریکیوں کی ہو یا ایرانیوں کے ہاتھوں امریکیوں کی ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ عراق میں ایرانی خفیہ محکمے کے اکا دکا لوگ ہیں جحو جنگ سے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں‘۔
عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ ’لیکن اس معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے‘۔
عراقی نائب صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک اہم ملک ہے۔ اس کے عراق اور شمرقِ وسطیٰ میں مفادات ہیں اور اگر مکالمہ نہ ہوا تو عراق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا ایک بالواسطہ میدان بن جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس میں ہم سب کا خسارہ ہے۔ ایران کا بھی، عراق کا بھی اور مشرقِ وسطیٰ کا بھی۔