Saturday, 27 January, 2007, 05:30 GMT 10:30 PST
سفارتکاروں کا کہنا کہ ایران نے اقوام متحدہ سے جوہری معائنہ کاروں کے سربراہ کو ایران سے واپس بلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے یہ اہلکار کرس چارلئر کے ملک میں داخل ہونے پر ایران پہلے ہی پابندی لگا چکا۔
عالمی قوانین کے مطابق ایران ایسے تمام معائنہ کاروں کو مسترد کرنے کا حق رکھتا ہے جن پر اسے اعتبار نہ ہو یا جنہیں وہ پسند نہ کرتا ہو۔
ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای کے ویانا میں واقع صدر دفتر کو لکھے جانے والے خط میں حکومت ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ایران کے بارے میں کوئی رپورٹ مسٹر چارلیر کو نہ دیکھنے دی جائے۔
ایران اس اقدام سے پہلے چار ملکوں کے 38 انسپیکٹروں کے اپنے ہاں داخل ہونے پر پابندی لگا چکا ہے۔
کچھ مغربی ملک اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ اب بھی ایران میں معائنہ کاروں کی کافی تعداد موجود ہے اور وہ کام انجام دے سکتے ہیں۔