http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 24 January, 2007, 00:20 GMT 05:20 PST

لبنان میں افراتفری کے بعد ہڑتال ختم

لبنان میں حزب اللہ کی قیادت میں حزبِ مخالف نے گزشتہ روز سے بلائی گئی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن کہا ہے کہ اگر حکومت ان کے مطالبات نہ مانی تو زیادہ مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

گزشتہ روز حزب اللہ کی طرف سے ہڑتال کی کال پر حکومت کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور سو زخمی ہو گئے تھے۔

بیروت ہڑتال کی تصویری جھلکیاں

حزب اختلاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی مہم کا یہ مرحلہ بڑی کامیابی سے پورا ہو گیا ہے اور مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

تاہم اس بیان میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ کیا ہڑتال کو حکومت سے کسی حد تک اتفاق ہو جانے کی وجہ سےختم کیا گیا ہے۔ بیان میں خبر دار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت اپنی بات پر اڑی رہی تو اپوزیشن زیادہ مؤثر کارووائی کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

لیکن بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کہتے ہیں کہ حزب مخالف کے ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ معاملہ ختم ہو گیا۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی ہڑتال کا مقصد حکومت کو خبردار کرنا تھا اور اگر حکومت ان کی بات نہ مانی تو اس سے زیادہ سخت کارووائی کی جائے گی۔
ہڑتال سے لبنان میں افراتفری پھیل گئی ہے

حزب اللہ کا مطالبہ ہے کہ لبنان کے وزیرِ اعظم فواد سینیورا کی حکومت مستعفی ہو جائے اور تازہ انتخابات منعقد کیے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کا جھکاؤ مغرب کی طرف کہیں زیادہ ہے اور ملک میں تباہی کی ذمہ دار بھی یہی حکومت ہے۔

حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمان حسن حُب اللہ کا کہنا تھا: ’یہ واضح ہو چکا ہے کہ حکومت دوسروں پر الزام عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یکم دسمبر سے حزبِ مخالف نے سڑکوں پر احتجاج شروع کیا اور لبنانی عوام نے ان کا ساتھ دیا۔ ہم گزشتہ پچاس دنوں سے کسی کو بھی نقصان پہنچائے بغیر پُر امن احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن یہ حکومت مغرور اور ضدی ہے، یہ لوگوں کے احتجاج کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اب جو ہو رہا ہے وہ بہت سنگین ہے۔ یہ محض ایک ہڑتال نہیں، یہ عام لوگوں کے جذبات کا مظہر ہے‘۔

کئی جگہ فوج اور سکیورٹی فورسز کو تصادم روکنے کے لیے بلایا گیا۔ خدشہ تھا کہ اگر ہڑتال آج بھی جاری رہی تو مزید ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ ہڑتال ختم کر دینے اور سڑکیں دوبارہ کھل جانے سے حالات بہتر تو ہوں گے لیکن لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر ابھی کشیدگی کچھ حد تک کم ہو بھی گئی، جب تک اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے گئے، حالات دوبارہ بگڑنے میں دیر نہیں ہو گی۔