Wednesday, 24 January, 2007, 07:45 GMT 12:45 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن
اس مرتبہ امریکی صدر جارج بش کے سالانہ خطاب میں دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کے سب سے بڑے اتحادی ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کہیں ذکر نہیں تھا۔
اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں جارج بش نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی کامیابیوں کی جو مثالیں گنوائیں اس میں انہوں نے پچھلے سال اگست میں برطانیہ سے امریکہ آنے والی پروازوں کو تباہ کرنے والی مبینہ منصوبے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ سازش ناکام بنانے میں انہوں نے برطانیہ کے کردار کو تو سراہا لیکن اس منصوبے کی اصل خفیہ معلومات برطانیہ تک پہنچانے میں پاکستان کا نام مکمل طور پر گول کر گئے۔
پتہ نہیں کہ پاکستان کے کمانڈو صدر مشرف کے لیے یہ بات باعثِ افسوس ہونی چاہیئے یا باعثِ اطمینان۔ آج کل پاکستانی منطق یہی نظر آتی ہے کہ’ چلو، کوئی بات نہیں! بش صاحب نے تعریف نہیں کی تو کوئی شکایت بھی نہیں کی۔ فی الحال اسی میں اپنی خیریت سمجھئے‘۔
ویسے واشنگٹن میں آج کل پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ اہلکار امریکی حکومت کے رویے سے کچھ نالاں سے لگنے لگے ہیں: ’روز ہم سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں تعاون نہیں کر رہا۔ قبائلی علاقے دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن گئے ہیں۔ آئی ایس آئی کے لوگ شرارت سے باز نہیں آ رہے، دراندازی ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ ۔‘
![]() | |
| مشرف صدر بش کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں |
’روز وہی الزامات، روز وہی وضاحتیں، فائدہ کیا؟ ہماری کوششوں پر شکریہ تو دور کی بات ہمیں یوں لگتا ہے کہ پاکستان فٹ پاتھ پر بیٹھے اُس بے بس شخص کی مانند ہے جِسے آتے جاتے جس نے چاہا یونہی دو چپیڑ لگاتا چلا گیا‘۔
پاکستانی حکام کی اس بے چارگی پر کچھ افسوس ہوتا ہے۔ پھر ان کی بظاہر معصومیت پر غصہ بھی آتا ہے۔
اگر پاکستان کی فوجی سٹیبلشمنٹ امریکہ کے اشارے پر اپنے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر پڑوسی ممالک کی مسلح تحریکوں میں نہ جھونکتی تو آج شاید پاکستان کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ پاکستانی فوج کی بظاہر تمام سر توڑ کوششوں کے باوجود اُس کے خلاف شکوک و شبہات کا یوں بازار گرم نہ ہوتا اور اگر پاکستان پڑوسیوں کے ساتھ بہتر رشتوں کے لیے بات چیت کا راستہ اپناتا تو شاید آئی ایس آئی کے ٹیڑے ہتھکنڈوں پر زیادہ انحصار کی ضرورت پیش نہ آتی۔
جب تک پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کی سوچ میں یہ بنیادی تبدیلی نہیں آتی، امریکہ، افغانستان اور بھارت سمیت باقی دنیا یہ ماننے میں خود کو حق بجانب سمجھے گی ’جی جنرل مشرف کا پاکستان تو ہمارے ساتھ جلیبی کی طرح سیدھا ہے!‘