http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 23 January, 2007, 13:28 GMT 18:28 PST

مقتدی الصدرکے چھ سو حامی گرفتار

عراق میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران شیعہ مذہبی رہنما مقتدی الصدر کے’مہدی‘ گروپ کے چھ سو مزاحت کاروں کوگرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار کیے گئے لوگوں میں ’مہدی‘ گروپ کے سولہ لیڈر بھی شامل ہیں۔

فوج کے ایک بیان کے مطابق گزشتہ پینتالیس دنوں میں مقتدی الصدر کے حامی مزاحمت کاروں کے خلاف باون کارروائیاں کی گئی ہیں۔

عراق میں مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے امریکی اور عراقی فوج نے مشترکہ طور پر ایک نئی مہم شروع کی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے لوگ عراقی حکومت، شہریوں اور اتحادی فوج کے خلاف حملوں میں ملوث تھے۔

ترجمان نے کہا ’ ان لوگوں کی مجرمانہ کارروائی سے عراق میں عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ عراقی عوام کی سلامتی اور مستحکم حکومت کے لیے ایسے افراد کو سماج سے اکھاڑ پھینکنے کی اہم مہم شروع کی گئی ہے۔‘

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ’مہدی‘ گروپ کے پانچ لیڈران کو صدر سٹی سے گرفتار کیا گیا ہے اور چھاپے کی کارروائی کے دوران ان کا ایک رہنما ہلاک ہوا ہے۔

اس کارروائی کے تحت بغداد میں 33 سنی مزاحت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ لوگ بیرونی ممالک کے جنگجوؤں کو لڑائی کے لیے ساز و سامان مہیا کرتے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں ’مہدی‘ گروپ کے تقریبا ساٹھ ہزار مزاحمت کار سرگرم ہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ’مہدی‘ گروپ کے کتنے اہم سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب شیعہ ملیشیا کے خلاف بھی سخت رویہ اپنانے کی حکمت عملی پر عمل شروع ہوا ہے۔

ماضی میں عراقی حکومت پر اس بات کے لیے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کہ بعض سیاسی وجوہات کے سبب ’مہدی‘ گروپ کے ساتھ اس کا رویہ نرم رہا ہے۔

ان سب کارروائیوں کے باوجود عراق میں تشدد میں کمی نہیں آئی ہے اور تقریبا ہر روز درجنوں موتیں ہورہی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے ڈر سے بہت سے لوگ چھپ گئے ہیں تاکہ موقع ملنے پر وہ اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکیں۔