http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 23 January, 2007, 09:33 GMT 14:33 PST

عالمی حدت: ’صدر بش کچھ کریں‘

امریکہ میں کئی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے صدر جارج بش سےعالمی حدت پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی درخواست کی ہے۔

صدر بش کو لکھے ایک خط میں ان سربراہان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق معاہدے کی حمایت کریں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر بش منگل کو سٹیٹ آف یونین کی تقریر میں اس موضوع پر بات تو کریں گے تاہم ان کی تقریر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر پابندی سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہوگی۔ بش انتظامیہ 2001 میں کیوٹو معاہدے سے بھی دستبردار ہو چکی ہے۔

سن انیس سو ستانوے میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق کیوٹو معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دستخط کرنے والے ممالک پر لازمی ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو سن دو ہزار آٹھ اور بارہ کے درمیان کم کرکے پانچ فیصد تک لائیں۔

نو بڑی کارپوریشنوں کے سربراہوں نے خط میں کہا ہے کہ ’ہمیں ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں ایک مربوط اور وسیع معاشی سوچ کو قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہیں‘۔
گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے عالمی حدت میں اضافہ ہوا ہے

ان سربراہان نے یوایس کلائمٹ ایکشن پارٹنرشپ یا یو ایس سی اے پی کے نام سے ایک گروپ بھی تشکیل دیا ہے۔ اس گروپ کے قیام کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے متعلق معاہدے پر پابندی کے سلسلے میں حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے جس کے تحت دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2050 تک 60 فیصد سے زائد کمی کرنی ہے۔

واشنگٹن میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو ایس سی اے پی کے ایک رکن اور ڈیوک انرجی کے سربراہ جم روجرز کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی رہنماؤں کے لیے یہی موقع ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسی گروپ کے دیگر اراکین کا تعلق الکوا، بی پی امریکہ، ڈوپونٹ، کیٹرپلر، جنرل الیکٹرک، لیہمان بردارز، ایف پی ایل گروپ اور پی جی اینڈ ای سے ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق صدر بش اپنی تقریر میں توانائی کے بہتر استمعال اور گرین ہاؤس گیسوں سے متعلق اہم اعلانات کرنے والے ہیں۔