http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 23 January, 2007, 21:37 GMT 02:37 PST

شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن

صدر کا خطاب اورعا لمی دلچسپی

امریکی صدر کے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب کو نہ صرف امریکہ بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔

دنیا کی سب سے طاقت ور فوج کا سربراہ دنیا کے بارے میں کیا عزائم رکھتا ہے؟ اس پر نظر رکھنا نسبتاً کمزورممالک کی مجبوری جو ٹہری!

امریکہ میں صدر کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کو ایک طرح کے رپورٹ کارڈ کے طور پہ دیکھا جاتا ہے جس میں امریکہ کے موجودہ حالات پر صدر کی سوچ اور آنے والی دنوں میں ان کی پالیسی اور ترجیحات کا ذکر ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو کا کہنا ہے کہ صدر بش اپنے خطاب میں عراق پالیسی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ پر بھی کھل کر روشنی ڈالیں گے۔

اشارے ہیں کہ لگ بھگ پینتالیس منٹ کے خطاب میں صدر بش عراق اور خارجہ پالیسی کو بہت زیادہ وقت دینے کی بجائے امریکیوں کو درپش داخلی مسائل پر اہم اعلانات کریں گے، جس میں توانائی ، تعلیم، صحت اور امیگریشن کے نظام میں اصلاحات کا ذکر شامل ہے۔

آج جن حالات میں صدر بش سٹیٹ آف دی یونین کا اپنا ساتواں خطاب کرنے جا رہے ہیں وہ ان کے حق میں نظر نہیں آتے۔

امریکی عوام میں صدر بش کی مقبولیت کا گراف اب تک کی سب سے نچلی سطح کو چھو رہا ہے جبکہ کانگریس میں صدر بش کی عراق پالیسی پر سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

آج صدر بش کو کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز سے جس مخالفت کا سامنا ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور گہری ہے۔ اس کی بڑی وجہ صدر بش کی اپنی پالیسیاں ہیں جن میں عراق سرِ فہرست ہے۔

آج صدر بش کی کوشش ہوگی کہ وہ تیزی سے ناراض ہوتے اپنے ریپبلیکن حمایتیوں کا اعتماد بحال کر سکیں۔

ان کی کوشش ہوگی کہ وہ ریپبلیکن ارکان کو یقین دلا سکیں کہ وہ عراق میں امریکہ کی کامیابی یقینی بنا کر رہیں گے لیکن اس میں وقت لگے گا اور اس کے لئے ان کی نئی حکمتِ عملی پر بھروسہ کیا جائے۔