Monday, 22 January, 2007, 23:18 GMT 04:18 PST
لبنان میں حزب اللہ کی طرف سے منگل کو ہڑتال کی کال پر حکومت کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور سو زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ جھڑپیں لبنان کے داراحکومت بیروت اور ملک کے دیگر حصوں میں ہوئی
ہیں۔ اس سے قبل سینکڑوں مظاہرین نے اہم شاہراؤں کو جلتے ہوئے ٹائروں سے بند کر دیا تھا۔ ہوائی اڈوں پر جہازوں کی آمدورفت معطل کردی گئی اور کاروبار زندگی بھی بند رہا۔
لبنان کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیں گے۔ حکومت نے گزشتہ روز یہ بھی کہا تھا کہ کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ضروری ہوا تو مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج بھی استعمال کی جائے گی۔
حزب اللہ کی طرف سے منگل کو ہڑتال کرنے کے اعلان کے بعد سے لبنان میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ حکومت نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ معمول کے مطابق اپنے کام کرتے رہیں۔
تاہم یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر مظاہرین نے سڑکیں بند کیں تو صورتِ حال خراب ہو سکتی ہے کیونکہ وزیرِ اعظم فواد سینیورا نے کہا ہے کہ سکیورٹی فوج سڑکوں کو کھلا رکھے گی۔
![]() | |
| حزب اللہ چاہتی ہے کہ اقتدار کا توازن اس کے اور اس کے حلیفوں کے حق میں ہو جائے |
گزشتہ سال یکم دسمبر سے حزب اللہ اور اس کے حلیفوں نے بیروت میں سرکاری عمارات کو تقریباً گھیر رکھا ہے جس سے شہر کا مرکز مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
تاہم حزب اللہ کے اس اقدام کے باوجود قومی اتحاد کی وہ حکومت ابھی تک نہیں بن سکی جس میں حزب اللہ اور اس کے حلیفوں کو ہر وہ فیصلہ ویٹو کرنے کا اختیار مل سکتا ہے جسے وہ ناپسند کریں۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے منگل کو ہڑتال بلائی ہے۔
![]() | |
| ہڑتال سے لبنان میں افراتفری پھیل گئی ہے |
اگرچہ اپوزیشن نے واضح طور سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی لیکن عام توقع یہی ہے کہ اس کے حمایتی سڑکیں بند کرنے کی کوشش کریں گے اور ناکے لگا کر شہر کو مفلوج کرنا چاہیں گے۔
ادھر وزیرِاعظم فواد سینیورا نے کہا ہے کہ فوج اور دیگر ادارے یہ بات یقینی بنائیں گے کہ منگل کو سڑکیں کھلی رہیں تاکہ وہ لوگ جو کام پر جانا چاہتے ہیں انہیں دقت نہ ہو۔
یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب جمعرات کو بین الاقوامی امدادی ادارے پیرس میں ایک اجلاس میں اس بات پر غور کریں گے کہ گزشتہ سال گرمیوں میں لبنان پر اسرائیلی حملے سے ہونے والی تباہی کے بعد لبنان کی مدد کس طرح کی جا سکتی ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ منگل کو بلائی جانے والی ہڑتال میں اہلِ تشیع بھر پور انداز میں شریک ہوں گے لیکن سنی مسلمان کافی حد تک حکومت کے طرف دار ہیں لہذا اپنے علاقوں میں وہ ہڑتال میں حصہ نہیں لیں گے۔
تاہم ایسے علاقے جہاں ملی جلی آبادی ہے اور جہاں مسیحی رہتے ہیں وہاں کنفیوژن ہے۔ کچھ مسیحی دھڑے حکومت کے حامی جبکہ کچھ حزب اللہ کے حق میں ہیں۔