Friday, 19 January, 2007, 07:18 GMT 12:18 PST
امریکی کانگریس میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس تحت امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے کا حکم نہیں دے سکیں گے۔
امریکی صدر بش کی پارٹی ریپبلیکن کے ممبر والٹر جونز کی سربراہی میں دس ارکان نے قانون کا ایک مسودہ کانگریس میں پیش کیا ہے جو اگر منظور کر لیا گیا تو امریکی صدر پر لازم ہو گا کہ ایران پر حملے سے پہلے وہ کانگریس سے رجوع کریں اور اس کی منظوری حاصل کریں۔
امریکی فوجی کی طرف سے عراقی شہر اربیل میں پانچ ایرانی شہریوں کی گرفتاری کے بعد امریکہ اور ایران میں تناؤ کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے ایرانی باشندے عراق میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دے رہے تھے۔
ایران کا موقف ہے کہ ایرانی سفارت کاروں کو اغوا کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری سفارتی امور کی خلاف ورزی ہے۔
عراق میں بااثر شیعہ رہنما عبد الحکیم نے بھی ایرانی شہریوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوج کی طرف سے ایرانی شہریوں کی گرفتاری عراقی اقتدار اعلی کی توہین ہے۔
امریکی صدر کی طرف سے ایران اور شام پر عراق میں بدامنی پھیلانے کے الزام کے بعد عراق میں مزید بیس ہزار فوجیوں کی روانگی سے خطے میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔
مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف انتہائی اقدام کی تیاری کر رہا ہے۔
ادھر سعودی عرب میں ایران اور امریکی اہلکاروں کی آمد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کانڈو لیزا رائس اور وزیر دفاع رابرٹس گیٹس نےحال ہی سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔
اس سے پہلے ایران کے اہلکار علی لاریجانی نے بھی سعودی عرب کا دورہ کر کے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینائی کا خط شاہ عبداللہ کو پہنچایا تھا۔
ا