http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 18 January, 2007, 15:16 GMT 20:16 PST

محمد اشتیاق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جھیل آلودہ خشکی پر بسیرا

منچھر جھیل پر کشتیوں میں آباد سینکڑوں ماہی گیر جھیل کا پانی آلودہ ہونے کے باعث اب جھیل سے باہر آ کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بڑی بڑی کشتیوں میں جھونپڑے بنا کر رہنے کا خوبصورت اور انوکھا طرز حیات دم توڑ رہا ہے۔

صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں واقع منچھر کو ایشیا بھر میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن یہ اب تباہی کا شکار ہو چکی ہے۔ آج جھیل اپنی آلودگی کے باعث آبی جانداروں اور ان پر انحصار کرنے والے انسانوں کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ رائٹ بنک آؤٹ فال ڈرین’ آر بی او ڈی ‘ کے ذریعے کھارے اور آلودہ پانی کا اس جھیل میں پھینکا جانا ہے۔

جھیل میں بارشوں اور سیلاب کے دنوں میں جب پانی کی سطح خطرے کے نشان یعنی سولہ فٹ تک بلند ہوجاتی توجھیل سے نہروں کے ذریعے اس پانی کا نکاس کیا جاتا۔

اس واقع کے بعد سے جھیل کا پانی نہروں میں نہیں چھوڑا جاتا، جس کی وجہ سے پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، اس وقت منچھر میں پانی کی سطح چودہ فٹ ہے جو خطرے کے نشان سے صرف دو فٹ کم ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر جھیل میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے اسے نہر میں نہ چھوڑا گیا تو جھیل کا بند ٹوٹنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

پانی کی آلودگی کی وجہ سےجھیل میں موجود نہ صرف مچھلیوں کی نشو ونما نہیں ہو رہی بلکہ ان کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ہو رہی ہے۔

جھیل کے کنارے پر آباد منچھر بند نامی گاؤں کے ملاح مولا بخش کا کہنا ہے کہ اب اُنہیں صرف چھوٹی مچھلیاں ہی ملتی ہیں اور وہ بمشکل دن میں دس سے پندرہ روپے کماتے ہیں۔ مولا بخش کے بقول چند سال پہلے تک وہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ من بڑی مچھلی پکڑتے تھے جس کی قیمت بھی زیادہ ملتی تھی۔ ’اب بھی پرانے وقت کو یاد کر کے ہم روتے ہیں حکومت نے اس جھیل کو بنایا نہیں تباہ کیا ہے‘۔

سید زاہد محمد شاہ کا تعلق باجارا نامی ایک گاؤں سے ہے اور وہ زمینداری کرتے ہیں۔ زاہد شاہ کا کہنا تھا کہ منچھر میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے اُن کی زمین ناکارہ ہو گئی ہے اور اب تو اُس سیم زدہ زمین کا خریدار بھی کوئی نہیں ہے۔

جھیل کے کنارے پر واقع بھوبک یونین کونسل کے ناظم مخدوم فضل محمد کا کہنا تھا کہ جھیل میں کام کرنے والے اکثر ملاح اب مچھلی نہ ملنے کی وجہ سے دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں جن میں گوادر سر فہرست ہے۔ اور کچھ ملاح تو اب اپنا آبائی کام چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں مزدوری کرتے ہیں اور گاؤں میں اکثریت عورتوں ہی کی رہ گئی ہے۔

پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے چٹائی بُننے کے لیے جھیل کے اندر اُگنے والی ’ کندر‘ بھی ختم ہو گئی ہے اور گاؤں کی وہ خواتین جو کندر سے چٹائی بنانے کا کام کرتی تھیں اب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں۔

پینسٹھ سالہ رجب علی کی زندگی کا بیشتر حصّہ جھیل کے اندر ہی گزرا لیکن جب جھیل کے اندر رہنا مشکل ہو گیا تو وہ منچھر کے کنارے پر آباد ہو گئے۔ رجب علی گزرے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں پر دوسرے علاقوں سے پرندے بھی آتے اور ہر طرف رونق ہی رونق ہوتی۔

رجب علی کے مطابق بڑے بڑے زمیندار اور سرکاری افسر مچھلی اور پرندوں کے شکار کے لیے یہاں آتے تھے۔ ’اب نہ مچھلی رہی نہ وہ پرندے، اس لیے لوگ بھی نہیں آتے‘ ۔

وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ یہ سات سالہ منصوبہ ہے اور یہ گزشتہ سال شروع ہوا تھا۔

ملک امین اسلم کا مزید کہنا تھا کہ رائٹ بنک آؤٹ فال ڈرین’ آر بی او ڈی‘ کی تکمیل کے بعد منچھر جھیل کو آلودہ اور کھارے پانی سے بچایا جا سکے گا اور حکومت آر بی او ڈی منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس بعد موجودہ صورت حال میں بہتری آئے گی۔

منچھر سے اب بھی ہزاروں لوگوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے، لیکن منچھر کے قریبی علاقوں کے رہنے والے اکثر لوگ بے یقینی کی کیفیت کے باوجود اس علاقے کو چھوڑ کر جانے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے۔ اگر منچھر کی رونق کو بحال کر لیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مقامی آبادی کی زندگی دوبارہ لوٹ آئے گی بلکہ وہ پرندے جنہوں نے منچھر سے منہ موڑ لیا تھا دوبارہ اس جھیل کا رخُ کریں گے۔