Wednesday, 17 January, 2007, 05:25 GMT 10:25 PST
صدر بش نے کہا ہے کہ عراقی حکومت کی کوتاہی سے صدام کی پھانسی ایک انتقامی ہلاکت نظر آنے لگی ہے۔
امریکی پبلک ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں صدر بش نے کہا کہ صدام حسین کی پھانسی کے طریقہ کار نے ان کے لیے امریکی عوام کو اس بات پر قائل کرنا مشکل بنا دیا ہے کہ عراق میں ایک سنجیدہ حکومت ہے جو ملک کو متحد رکھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے اور استحکام کے لیے مزید بیس ہزار فوج بھیجنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔
صدر بش نے کہا کہ امریکہ کو عراق میں جاری تشدد پر اب قابو پانا ہے، ورنہ تشدد کا یہ سلسلہ کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔
صدر بش نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب منگل کے روز بغداد میں مستنصریہ یونیورسٹی میں دو بم دھماکوں میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
صدر بش نے تسلیم کیا کہ امریکہ میں کئی حلقے بڑی حد تک جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں واشنگٹن میں اپنے منصوبوں کے سلسلے میں ہر طرف سے قنوطیت اور شک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی کانگریس کے کئی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان مزید فوج عراق بھیجنے کے خلاف ہیں۔