Tuesday, 16 January, 2007, 11:11 GMT 16:11 PST
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس افغانستان کے دارالحکومت کابل کے دورے پر ہیں جہاں وہ ملک میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافے پر بات چیت کریں گے۔
رابرٹ گیٹس صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ ملک میں طالبان کی دوبارہ گروہ بندی اور ان کی طرف سے کی جانے والی مزاحمت پر مذاکرات کئے جاسکیں۔
امریکی ڈیفنس سیکرٹری کابل پہنچنے سے قبل برسلز میں بھی رکے تھے جہاں انہوں نے نیٹو رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی تھی۔
رابرٹ گیٹس نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ’طالبان کو شکست دینا ان کی اول ترجیح ہے۔‘
نیٹو کے جنرل سیکرٹری ژاپ دی ہوپ شفر کے ساتھ ملاقات کے بعد گیٹس کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کی دوبارہ سے گروہ بندی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے 2006 کا سال افغانستان کے لیےخونی ترین سال ثابت ہوا ہے۔ ملک کے جنوبی صوبے ہلمند اور قندھار اور چند مشرقی علاقے پرتشدد کارروائیوں کا بدترین نشانہ رہے ہیں۔
خیال ہے کہ سن 2006 میں افغانستان میں 4000 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ایک چوتھائی تعداد عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔
رابرٹ گیٹس کے پچھلے سال اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد یہ ان کا افغانستان کا پہلا دورہ ہے۔
حامد کرزئی کے علاوہ رابرٹ گیٹس افغانستان میں اعلٰی ترین امریکی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کارل ایکنبیری اور نیٹو کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈز سے بھی ملیں گے۔
تشویش کا شکار |
انہوں نے کہا ’دشمن سرحد کے دونوں جانب کے علاقوں کا استعمال کر رہا ہے۔پاکستان کے اندر سے وہ افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں کو کمانڈ اور کنٹرول کررہے ہیں۔ ان کے اعلٰی رہنما سرحد کے دونوں جانب موجود ہیں۔‘
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈین آئزک کے مطابق رابرٹ گیٹس بذات خود ملک میں بڑھتی پرتشدد کارروائیوں کا معائنہ کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آیا یہاں موجود بین الاقوامی فوج اور فوجی سازو سامان اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کافی ہے بھی یا نہیں۔
نامہ نگار کا خیال ہے کہ حال ہی میں عراق میں تعینات امریکی فوجیوں میں اضافے کے باعث افغانستان میں مزید فوج کی تعیناتی کا فی الوقت واضح امکان موجود نہیں ہے۔
افغانستان میں 20000 امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے تقریباً نصف نیٹو کی سرپرستی میں کام کرتے ہیں۔ باقی نصف خودمختار امریکی کنٹرول کے تحت وہاں تعینات کیے گئے ہیں جن کا بنیادی مقصد ان طالبان اور القاعدہ کارکنوں کا سراغ لگانا ہے جو پاک افغان سرحد کے درمیانی حصے سے کارروائیاں کرتے ہیں۔