Tuesday, 16 January, 2007, 12:24 GMT 17:24 PST
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کےایک سینئر افسر نے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں عراق میں تشدد سے چونیتیس ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
عراق میں اقوام متحدہ کے ایلچی گیانی میگزینی نے کہا ہے کہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق چونیتیس ہزار چار سو باون شہری ہلاک اور 36 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
مسٹر میگزینی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اعداد و شمار ہسپتال، مردہ خانوں اور دیگر ایجنسیوں سے جمع کیے ہیں۔
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ صحیح طور پر تو کسی کو بھی نہیں معلوم کہ عراق میں ہر روز کتنے لوگ ہلاک ہوتے ہیں لیکن اقوام متحد کے اعداد و شمار ایک اندازے کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے متعلق عراقی حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آيا ہے لیکن جب اقوام متحدہ کی طرف سے صرف اکتوبر کے مہینے میں تین ہزار سات سولوگوں کی ہلاکت کی رپورٹ جاری کی گئی تھی تو عراقی انتظامیہ نے رپورٹ کو مبالغہ آرائی پر مبنی کہکر مستر کردیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تشدد کی لہر اور زمینی حالات سے تو یہی لگتا ہے کہ رپورٹ میں مبالغہ آرائی کی گنجائش کم ہے۔
ہر صبح پولیس بغداد کی گلیوں سے درجنوں لاشیں بر آمد کرتی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں شیعہ اور سنیوں کے درمیان فرقہ وارنہ تشدد کا نتیجہ ہیں۔
صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کی پھانسی کے بعد اس تشدد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔