Saturday, 13 January, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ مزاحمت کاروں نے کرکک میں شیعہ مسلک کی ایک زیرِ تعمیر مسجد کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
ایک دیگر واقعے میں کرکک شہر میں ہی دو تعمیراتی کارکنوں کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس حملے میں دیگر دو کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دریں اثناء مشرقِ وسطٰی کے دورے پر روانگی سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ کونڈا لیزا رائس نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے جن کے مطابق امریکہ کے عراق میں موجود ایرانی گروپوں سے لڑائی کے نتیجے میں عراق میں جاری جھڑپوں میں تیزی آئے گی۔
تاہم انہوں نے امریکی صدر بش کے اس عزم کی حمایت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عراق میں بم تیار کرنے والےگروہوں کے خلاف ’تلاش کرو اور تباہ کردو‘ کی بنیاد پر آپریشن کیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے جھڑپوں میں تیزی نہیں آئے گی بلکہ یہ ایک عمدہ پالیسی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ ایران یا شام کو عراق میں کوئی ایسی سرگرمی جاری رکھنے نہیں دےگا جس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے نزدیک دنیا میں کوئی حکومت ایسی نہیں ہوگی جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے اور عراق میں مختلف گروہوں خصوصاً ایرانیوں کو وہ نیٹ ورک چلانے دے جو اعلیٰ درجے کے ایسے بم بنانے میں مصروف ہیں جن کا نشانہ ہمارے فوجی بنتے ہیں‘۔
کونڈا لیزا رائس مشرقِ وسطٰی کے دورے کے دوران عراق کے علاوہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گی۔ تاہم انہوں نے روانگی سے قبل تسلیم کیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کروانے کے لیے یہ دورہ نہیں کر رہی ہیں۔