Saturday, 13 January, 2007, 15:06 GMT 20:06 PST
فلسطین کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے حماس اور الفتح کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے قومی اتحاد کی اپیل کی ہے۔
ٹی وی پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی گروپوں میں باہمی جھڑپیں اور ان میں تیس افراد کی ہلاکت کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں۔
حماس کی محالف تنظیم الفتح کے رہنما اور فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی دوروز قبل ایسی ہی ایک اپیل کی تھی۔اپنی تقریر میں اسماعیل ہنیہ نے جہاں بار بار لوگوں سے متحد رہنے کی اپیل کی وہیں انہوں نے ایک ایسی حکومت کے قیام کی خاطر کوششوں پر بھی زور دیا جس کے نتیجے میں حماس اور الفتح کا اتحاد ہو جائے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر بھی الزام لگایا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں خانہ جنگی شروع کروانا چاہتے ہیں۔
غزہ میں بی بی سی کے نمائندے ایلن جونسٹن کے مطابق دونوں رہنماؤں کی تقاریر ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب حماس اور الفتح کے درمیان ’زبانی جنگ‘ جاری ہے۔
ادھر فلسطینی حکومت کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادئیگی کے خلاف ہڑتال ختم کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ادائیگی کی یقین دہائی کروائی گئی ہے۔
فلسطینی وزیراعظم نے بھی اپنی تقریر میں عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل اور مغربی دنیا کی جانب سے فلسطین پر عائد اقتصادی بندشیں ختم کروانے کا وعدہ پورا کرے تاکہ حکومت ملازمین کو تنخواہیں ادا کر سکے۔
ادھر اسرائیلی کابینہ میں پہلی مرتبہ ایک عرب مسلمان وزیر کو شامل کیا گیا ہے۔ اسرائیل کی لیبر پارٹی کے سربراہ عامر پیریز نے رالب مجادیل کی بطور وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی تقرری کو’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تقرری سے اسرائیل میں مختلف گروہوں کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔