Wednesday, 10 January, 2007, 18:25 GMT 23:25 PST
عراق کے صدر جلال طالبانی نے سابق عراقی رہنما صدام حسین کے دو ساتھیوں کو پھانسی دینے کے حکم پر عمل درآمد کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدام حسین کے دونوں ساتھی، سوتیلے بھائی برزان ابراہیم تکریتی اور عود البندر کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
عراقی صدر مجرموں کی سزا کو بدلنے یا ان میں تاخیر کا اختیار نہیں رکھتے۔
شمالی عراقی شہر سلمانیہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عراقی صدر نے کہا کہ
صدام حسین کے ساتھیوں کو سزا دینے کا لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔
صدا م حسین کی متنازعہ پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر طالبانی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات پھانسی کی سزا کے لیے سازگار نہیں ہیں۔
ادھر عراق کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے مجرموں کی پھانسی کے وارنٹ پر دستخط ہو چکے ہیں اور ان پر عمددرآمد کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔
صدر جلال طالبانی نظریاتی طور پر سزائے موت کے مخالف ہیں۔ تاہم پہلی مرتبہ انہوں نے کھل کر برزن تکریتی اور عود البندر کی سزائے موت مؤخر کرنے کی بات کہی ہے۔
صدام کے سوتیلے بھائی ابراہیم تکریتی ان کے اقتدار کے دوران عراق کی خفیہ پولیس کے سربراہ تھے اور عود البندر چیف جج تھے۔
ان دونوں کو معزول صدر صدام حسین کے ہمراہ انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت موت کی سزا سنائي گئی تھی۔
وزیر اعظم نوری المالکی اور وزیرداخلہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان دونوں کی پھانسی کی تیاریاں مکل کر لی گئی ہیں۔ تاہم صدام کی پھانسی کے طریقہ کار پر تنازعے کے سبب عراقی حکومت پر ان کی سزائے موت کو مؤخر کرنے کا دباؤ ہے۔
اسی پس منظر میں صدر طالبانی نے بھی پھانسی کو موخر کرنے کی بات کہی ہے۔ ان کے پاس ایسے کوئی اختیارات تو نہیں ہیں لیکن ان کے بیان کی سیاسی و اخلاقی اہمیت ضرور ہے۔