http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 09 January, 2007, 04:19 GMT 09:19 PST

ہرماہ 50 ہزار عراقیوں کی نقل مکانی

دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے نے عراق میں جاری تشدد کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور افراد کی مدد کے لیے چھ کروڑ ڈالر کی فوری امداد طلب کی ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق ہر آٹھواں عراقی اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں ہے اور ایسے افراد کی تعداد پچاس ہزار فی ماہ ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطینیوں کی ہجرت کے بعد مشرق وسطیٰ میں ہونے والی یہ سب سے بڑی نقل مکانی ہے۔

عراق سے ہجرت کرنے والوں کی زیادہ تر تعداد شام، اردن، مصر اور لبنان کا رخ کر رہی ہے۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ انتونیو گتیریز کے مطابق عراق کی موجودہ صورتحال جتنا طول پکڑے گی، ہجرت پر مجبور لوگوں کے لیے حالات اتنے ہی کٹھن ہوتے جائیں گے۔

پناہ گزینوں کے عالمی ادارے کے اندازوں کی روشنی میں کہا جا رہا ہے کہ اس وقت بیس لاکھ عراقی اپنے ملک سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ سترہ لاکھ افراد ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی بے گھر ہو چکے ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ حالات ایسے ہی رہے تو عراق کے اندر بے گھر افراد کی تعداد اس سال کے آخر تک ستائیس لاکھ ہو جائے گی۔

اپنا ملک چھوڑ جانے والے عراقیوں میں سے دس لاکھ شام میں، سات لاکھ اردن میں، بیس سے اسی ہزار مصر میں اور چالیس ہزار لبنان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان عراقی پناہ گزینوں کی اکثریت انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ ان حالات میں خواتین میں جسم فروشی کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

شام میں عراقی پناہ گزینوں کے بچوں کی ایک تہائی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے عراق کے ہمسایہ ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی سرحدیں کھلی رکھیں کیونکہ وہاں جاری پر تشدد کارروائیوں کی وجہ سے ہجرت کا ایک سیلاب آنے کا اندیشہ ہے۔