Sunday, 07 January, 2007, 00:49 GMT 05:49 PST
حکمراں فلسطینی تحریک ’حماس‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مسلح فورس کی تعداد دوگنا بڑھا کر بارہ ہزار کر دے گی۔
یہ اعلان فلسطینی صدر محمود عباس کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حماس سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
اپنے بیان میں فلسطینی صدر نے حماس کے مسلح گروہ کو سکیورٹی کے موجودہ سرکاری اداروں میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
حماس اور صدر محمود عباس کی جماعت ’فتح‘ کے درمیان اس وقت سے اقتدار کے لیے کشمکش جاری ہے جب حماس نے ایک برس قبل پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔
محمود عباس علیحدہ سے منعقد کیے گئے صدراتی انتخاب میں منتخب ہوئے تھے اور تب سے وہ سکیورٹی فورسز کے حوالے سے زیادہ با اختیار ہونے کا دعویٰ کرتے آرہے ہیں۔
فلسطینی صدر کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو فورس اگر سرکاری سکیورٹی فورسز میں ضم نہیں ہوتی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
صدر محمود عباس کا یہ بیان غزہ میں ایک سینئر سکیورٹی اہلکار کے گھر پر حماس کی ایگزیکٹو فورس کے مبینہ حملے کے دو دن بعد جاری کیا گیا ہے۔ اس حملے میں مذکورہ سکیورٹی اہلکار اور ان کے کئی محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔
حماس کے ترجمان نے ایگزیکٹو فورس کے بارے میں دیئے گئے صدر محمود عباس کے بیان کو ’بے تکا اور غیر ضروری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس بیان کے ذریعے در اصل حماس کے محافظوں پر حملہ کرنے کی اجازت دی ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے ’رائٹر‘ کے مطابق امریکہ فلسطینی صدر محمود عباس سے وفادار سکیورٹی فورسز کو تقریباً ساڑھے چھیاسی ملین ڈالر کی امداد دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
رائٹر نے امریکہ کے سرکاری ڈاکومنٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس امداد سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو ’دہشت گرد‘ تنظیموں سے نمٹنے اور امن و امان قائم کرنے میں مدد ملے گی۔