Saturday, 06 January, 2007, 23:21 GMT 04:21 PST
عراق کے دارالحکومت بغداد میں سنیچر کی رات ہونے والی مسلح جھڑپوں میں فوج کے ہاتھوں تیس ہتھیار بندوں کی ہلاکت اور کئی گرفتاریوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں سے بعض کا تعلق سوڈان سے بتایا جا رہا ہے۔ عراق کے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والی خبروں کے مطابق مسلح جھڑپیں بغداد کی حیفہ سٹریٹ کے نزدیک ہوئیں، جہاں صدام دورِ حکومت میں اعلیٰ حکام کی رہائش گاہیں ہوا کرتی تھیں۔
دارالحکومت بغداد کے مرکز میں ہونے والی ان جھڑپوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ امن و امان قائم کرنے کی عراقی حکومت کی تازہ ترین کوششوں کا حصہ ہیں۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے تمام غیر قانونی مسلح گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل بغداد کے مختلف علاقوں سے اکہتر لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر فرقہ واریت کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ستائیس لاشیں شیخ معروف کے علاقے میں ایک سنی مزار کے قریب سے ملی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کو سر پر گولیاں ماری گئی تھیں۔
اسی طرح علاقے دورا میں ایک کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کار بم دھماکے کے ایک اور واقعہ میں اعلیٰ پولیس اہلکار میجر جنرل علی یاسر کو نشانہ بنایا گیا۔ وہ تو اس واقعہ میں بچ گئے لیکن ایک راہگیر ہلاک ہو گیا۔
دریں اثناء امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار مسلح مزاحمت کاروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد سڑکوں پر بم نصب کرنے کی وارداتوں میں ملوث تھے۔