Saturday, 06 January, 2007, 15:15 GMT 20:15 PST
فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اگر حماس کی ملیشیا فلسطینی سکیورٹی افواج میں ضم نہیں ہوتی تو اسے غیر قانونی تصور کیا جائےگا۔
غزہ میں الفتح اور حماس کے درمیان جاری پر تشدد جھڑپوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حفاظتی بحران اور ہلاکتوں کے سلسلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حماس کے مسلح افراد کو چاہیے کہ وہ قانون کا احترام اور فلسطینی عوام کی حفاظت کریں۔
صدر عباس کے اس بیان کے جواب میں حماس کے ترجمان خالد ابو ہلال نے محمدو عباس پر الزام لگایا کہ انہوں نے حماس کے مسلح افراد پر حملوں کی اجازت دی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔
حماس اور الفتح کے درمیان جھڑپوں میں اب تک تیرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے مخالف فرقوں کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والی فائر بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے الفتح اور حماس کے مسلح افراد کو غزہ کی سڑکوں سے ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ وہ اپیل کرتے ہیں کہ سب پرامن رہیں اور اب بات چیت کے ذریعے قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دی جائے۔
اسماعیل ھنیہ نے اپنا بیرونی دورہ مختصر کر کے محمود عباس سے غزہ میں جمعرات کو ملاقات کی تھی۔ اور اس ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ فلسطین میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کی تحقیقات کروائیں گے۔