Friday, 05 January, 2007, 08:19 GMT 13:19 PST
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ الیگزانڈر ڈاؤنر نے کہا ہے کہ دو طرفہ معاہدے کے تحت آسٹریلیا بہت جلد چین کو یورینیم کی فراہمی شروع کر دیگا۔
اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ برس ایک معاہدہ ہوا تھا اور وزیرخارجہ کے مطابق آئندہ تیس دنوں میں اس پر عمل درآمد شروع ہو جائےگا۔
آسٹریلیا میں دنیا کا تقریباً چالیس فیصد یورینیم پایا جاتاہے۔
چین کو اپنی تیز رفتار اقتصادی ترقی کے لیے توانائی کی سخت ضرورت ہے اور وہ تیل پر اپنا انحصار کم کر کے جوہری توانائی پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
اپریل میں چینی صدر ہو ژِن تاؤ کے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان جوہری تبادلے اور تعاون کے دو معاہدے ہوئے تھے۔
دونوں ممالک اس سے قبل چین کی جانب سے یورینیم کے جوہری پروگرام میں استعمال کے خدشات کی وجہ سے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔
تاہم ان معاہدوں میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ چین کو فراہم کیے جانا والا یورینیم پرامن مقاصد کے لیے استعال ہوگا۔
آسٹریلیا تیس سے زائد ملکوں کو سخت شرائط کے تحت یورینیم فراہم کرتا ہے۔
بھارت نے بھی آسٹریلیا سے یورینیم خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن چونکہ بھارت نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاسکا ہے۔
چین میں عام طور پر کوئلہ بجلی اور تیل جیسی توانائی کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اب اس کی بڑھتی معیشت کے لیے توانائی کے نئے ذرائع درکار ہیں۔ بجلی کی کمی کا یہ عالم ہے کہ بڑے شہروں میں عام طور پر یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
چین اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آئندہ بیس برس میں چالیس سے پچاس جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کے لیے یورینیم کی فراہمی بہت اہم ہے۔