Thursday, 04 January, 2007, 15:52 GMT 20:52 PST
اطلاعات کے مطابق طالبان کے مفرور رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ پانچ سال قبل افغانستان میں امریکی اور اس کی اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے انہیں علم نہیں کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کہاں ہیں۔
خبررساں ادارے رائٹرز نے ملا عمر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملا عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسامہ سے ملنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی تاہم وہ ان کی صحت اور سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔
بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسامہ کے افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے درمیان واقع پہاڑی سلسلے میں چھپے ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس نے محمد حفیف نامی شخص کے ذریعے ملا عمر سے سوالات پوچھے تھے جس کا جواب انہوں نے تحریری طور پر اس شخص کودیا۔
اس سے قبل ملا عمر نے اپنے ایک نشری پیغام میں پاک افغان رہنماؤں پر مشتمل قبائلی جرگہ کے قیام کی تجویز کو ایک ’چال‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔
عیدالاضحیٰ سے قبل اپنے جاری ہونے والے اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ دشمن شرمندہ اور بے عزت ہو کر اس خطے سے نکلے گا۔
افغانستان میں نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملا عمر روپوش ہیں اور ان کے سر کی قیمت دس ملین امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔