http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 04 January, 2007, 16:06 GMT 21:06 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

پنجاب: پتنگ بازی پر پابندی ختم

پنجاب میں حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی ہٹانے کا مشروط فیصلہ کیا ہے البتہ پتنگ بازی شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

صوبائی سیکرٹری اطلاعات کے مطابق پتنگ بازی کے لیے ایک لیگل فریم ورک بنایا گیا ہے جس کے تحت پتنگ اور ڈور کا ایک خاص معیار مقرر کیا گیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

صوبائی سیکرٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ پتنگ اڑانے کی محدود اجازت دے دی جائے گی۔تاہم انہوں نے کہا کہ پتنگ اڑائے جانے کے باقاعدہ آغاز کی تاریخ کا اعلان ایک الگ نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا جائے گا۔

پنجاب میں بسنت منانے اور اس موقع پر پتنگ بازی کی روایت صدیوں پرانی ہے لیکن گذشتہ چند برس سے بسنت کے دوران پتنگ بازی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا جس کے بعد اس روایتی کھیل پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

گذشتہ برس بھی حکومت نے پتنگ بازی سے صرف دو ہفتوں کے لیے پابندی ہٹائی تو اس کھیل کے مخالفین نے کہا تھا کہ ان تیرہ دنوں میں اڑتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے کئی ہلاکتیں گلے پر ڈور پھرنے کی وجہ سے ہوئیں۔

سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ نئے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لیے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن بنائی جائے گی جو پتنگیں اور ڈور بنانے کے لائسنسں جاری کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پتنگ اور ڈور سازی کے دوران مقرر معیار کی خلاف ورزی نہ ہوسکے۔خلاف ورزی کرنے والے کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور چار برس قید کی سزا ہو گی۔

حکومتی فیصلے کے مطابق پتنگیں اڑانے کی نگرانی کے لیے محلے اور یونین کونسل کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں پولیس، کونسلر اور بزرگ شامل ہونگے۔

ڈور کے لیے نو سنگل (تاروں) سے موٹا دھاگہ استعمال نہیں ہوگا اور اسے تیز دھار بنانے کے لیے موٹا شیشہ ،کیمیکل،ایمبرائرڈی پاؤڈر استعمال نہیں کیا جائے گا جبکہ گوند، پسا ہوا باریک شیشہ، رنگ اور میدہ استعمال ہوسکے گا۔

حکام کے مطابق ڈور کے لیے چرخی کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور اسے لپیٹنے کے لیے صرف گولہ بنایا جاسکے گا۔

پتنگ بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پتنگ کٹ جانے کے بعد ڈور کو چرخی کے ساتھ موٹر لگا کر اسے تیزی سے کھینچ لیا جاتا ہے جس سے اس کی زد میں آنے والے انسانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

صوبائی سیکرٹری اطلاعات تمیور عظمت عثمان اورسیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات سلمان غنی نے مذکورہ قواعد وضوابط کی تفصیلات ایک پریس بریفنگ میں بتائیں۔