Thursday, 04 January, 2007, 17:14 GMT 22:14 PST
بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا ہے کہ اس مہینے کے آخر میں پارلیمانی انتحابات کرانے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
عوامی لیگ اور حزب اختلاف کی قومی جماعتوں کے اتحادنے کہا ہے کہ وہ قومی انتحابات میں حصہ نہیں لینگے۔ لیکن بنگلہ دیش کی حکومت اور الیکشن کمیشن نے اس پر زور دیا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
عوامی لیگ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے جار ہی ہے اور حکومت پر الزام لگارہی ہے کہ وہ غیرقانونی ہے۔ اس نے اگلے ہفتے پورے بنگلہ دیش میں پہیہ جام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چودہ جماعتوں پر مشتمل حزب مخالف کے اتحاد نے یہ الزام بھی لگایاہے کہ عبوری حکومت کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہونا ممکن نہیں ہے۔
اتحادیوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بنگلہ دیش کے صدرا ایاز الدین اس عہدے پر غیرقانونی طور پر فائز ہیں اور وہ ووٹروں کی غلط فہرستوں کی بنیاد انتخابات کرانا چاہتے ہیں۔
پچھلے مہینے امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے باہمی اختلافات میں کمی لانے کا مشور دیا تھا۔
امریکی معاون وزیر خارجہ کرسٹینا روکا نے بھی حزب اختلاف پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ میں حصہ لے اور مثبت کردار ادا کریں۔