Wednesday, 03 January, 2007, 14:43 GMT 19:43 PST
امیگریشن سے متعلق ایک غیرسرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانوی معیشت میں حکومتی دعوے کے برعکس تارکین وطن کا کردار ’درحقیقت بہت ہی کم‘ ہے۔
’مائگریشن واچ یو کے‘ کے مطابق تارکین وطن کی وجہ سے برطانیہ میں ہر شخص کو فی ہفتے صرف چار پینس یعنی لگ بھگ چار روپےکا فائدہ ہے۔
تاہم برطانوی وزرات داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس بات پر ’واضح اتفاق‘ پایا جاتا ہے کہ تارکین وطن نے برطانوی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔
لیکن مائگریشن واچ یوکے کے چیئرمین سر انڈریو گرین نے حکومت پر امیگریشن سے پیدا ہونے والے مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کا الزام لگایا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تارکین وطن سے برطانوی معیشت کو چار بلین ڈالر کا فائدہ ہوا ہے جو کہ دس سے پندرہ فیصد شرح ترقی کے برابر ہے۔ لیکن مائگریشن واچ یو کے کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے کے برعکس تارکین وطن کا کردار کافی کم ہے۔
سر انڈریو کا کہنا تھا کہ فی برطانوی شہری کے لیے تارکین وطن کا کردار ’قابل لحاظ‘ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ در حقیقت فائدہ تارکین وطن کو ہوتا ہے جو ہر روز لگ بھگ دس ملین پاؤنڈ اپنے وطن بھیجتے ہیں۔
تجارتی اداروں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم کنفیڈریشن آف برِٹش انڈسٹری کی سوژن اینڈرسن نے اپنے ردعمل میں مائگریشن واچ یوکے پر ’ان اعداد و شمار سے سستے سیاسی مفاد‘ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔
گزشتہ پہلی جنوری سے رومانیہ اور بلغاریہ کے یورپی یونین میں شامل ہونے سے برطانیہ میں مزید تارکین وطن کی متوقع آمد پر ان دنوں برطانوی ذرائع ابلاغ میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔