Thursday, 04 January, 2007, 00:09 GMT 05:09 PST
امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ کی سابقہ اسلامی حکومت کے ارکان کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے امریکی بحریہ صومالیہ کے ساحل پر تعینات کر دی گئی ہے۔
محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان شان مکارمیک نے کہا کہ امریکہ سابقہ حکومت کے ان ارکان کو، جن کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ہیں، فرار ہونے سے روکنے کے لیے صومالیہ کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
اس سے قبل کینیا نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے شدت پسندوں کو روکنے کے لیے صومالیہ کے ساتھ سرحد بند کر دی ہے۔ سینکڑوں صومالی پنا گزینوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ واپس بھیجے جانے والے افراد میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
دریں اثناء یوگانڈا کے صدر ایتھوپیا جا رہے ہیں جہاں وہ صومالیہ کے لیے افریقی امن فوج میں یوگانڈا کے فوجیوں کی شمولیت پر بات چیت کریں گے۔
کینیا کی سرحد کے قریب کینیا کی فوج اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ایتھوپیا اور صومالیہ کی افواج شدت پسندوں کا پیچھا کر رہی ہیں۔
یورپی یونین صومالیہ کو امداد دینے والوں میں سر فہرست ہے اور امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سویڈن کے وزیر خارجہ نے برسلز میں ایتھوپیا کی افواج کی واپسی اور ایک ایسی صومالی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس میں صومالیہ کے تمام سیاسی دھڑوں کی نمائندگی ہو۔