Wednesday, 03 January, 2007, 19:41 GMT 00:41 PST
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کی پھانسی کی موبائل فون سے بنائی گئی غیر سرکاری ویڈیو کے معاملے میں پھانسی کے موقع پر موجود ایک گارڈ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
غیر سرکاری اور غیر پیشہ وارانہ انداز میں موبائل فون پر بنائی گئی یہ ویڈیو سنیچر کو صدام حسین کی پھانسی کے بعد انٹرنیٹ پر آئی تھی۔ اس ویڈیو میں پھانسی کی تمام کارروائی دکھائی گئی تھی اور ویڈیو میں سنائی دینے والی آوازوں سے لگتا تھا کہ پھانسی سے کچھ دیر پہلے صدام حسین اور وہاں پر موجود چند لوگوں میں تلخ کلمات کا تبادلہ ہوا۔
جلاد کے تختہ کھینچتے وقت ایک شخص صدام کو ’جہنم میں جاؤ‘ کہتا ہے۔ کئی اور افراد شیعہ رہنما مقتدی الصدر اور ان کے والد محمد صادق صدر کے نام لے کر نعرے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد صادق صدر کو صدام کے ایجنٹوں نے قتل کردیا تھا اور صدام حسین سے طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں ’ کیا تم اسے بہادری سمجھتے ہو؟۔
اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر سے عراقی حکومت کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عراقی حکومت نے بھی ویڈیو انٹرنیٹ پر چھوڑنے پھانسی کے آخری لمحات میں صدام حسین پر فقرے بازی کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے اور اسے شیعہ سنی تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی سازش قرار دیا ہے۔
ویڈیو کے بارے میں تحقیق کرنے والی کمیٹی سے اور وزیرِ اعظم نوری المالکی کے دفتر سے اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہے کہ اس سلسلے میں سکیورٹی کے ایک اہلکار سے تحقیقات جاری ہیں۔