http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 02 January, 2007, 10:14 GMT 15:14 PST

عراق میں ایک سال میں ریکارڈ ہلاکتیں

عراق میں جاری تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور صرف دسمبر کے مہینے میں ملک میں ایک ہزار نوسو تیس افراد لقمہ اجل بن گئے۔

عراق پر مارچ دو ہزار تین میں امریکی حملے کے بعد سے اب تک گزشتہ ماہ سب سے زیادہ تعداد میں عراق شہری ہلاک ہوئے اور اس طرح دسمبر کا مہینہ سب سے زیادہ خونی ثابت ہوا۔

عراقی حکام کی جانب یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ سے عراق کے لیے نئی حکمت عملی کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس تشدد پر قابو پانے کے لیئے توقع کی جارہی ہے کہ صدر بش مزید امریکی فوج عراق بھیجنے کا اعلان کریں گے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے عراق حکام کی طرف سے جاری ہونے والے اعدادو شمار کو انتہائی تکلیف دہ کہا ہے۔

 سن دو ہزار چھ میں بارہ ہزار شہری تشدد کے واقعات میں ہلاک ہوئے جس میں سے نصف تعداد گزشتہ چار ماہ میں مارے گئے۔
 

ان اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار چھ میں بارہ ہزار شہری تشدد کے واقعات میں ہلاک ہوئے جس میں سے نصف تعداد گزشتہ چار ماہ میں مارے گئے۔

ان اعدادو شمار میں ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جو تشدد کے واقعات میں زخمی ہوئے اور بعد میں انہوں نے ہسپتالوں یا گھروں میں دم توڑ دیا۔

ان اعدادو شمار کو اکھٹا کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کے باعث ان ہلاکتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے اور زمینی حقائق بھی اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔

اس وقت عراق میں ایک لاکھ چالیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کویت میں بھی قابلِ ذکر تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں جنہیں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کے لیے عراق بھیجا جا سکتا ہے۔