Tuesday, 02 January, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
انڈونیشیا میں ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ پیر کو پرواز کے دوران لاپتہ ہونے والے طیارے کا ملبہ مل گیا ہے۔
وزیر ہاتہ رادجاسا کا کہنا تھا کہ لاپتہ ہونے والے طیارے کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا ہے اور اس کے ملبے کے بارے میں اطلاعات مقامی دیہاتیوں کی جانب سے افواہوں پر مشتمل تھیں جو کہ درست نہیں ہیں۔
اس سے قبل امدادی ٹیم اور ائیر لائن کے سربراہان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امدای ٹیموں نے طیارے کے ملبے سے نوے افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔
ہاتہ رادجاسا نے مقامی ریڈیو کو بتایا ہے کہ سرچ ٹیمیں ابھی تک سترہ سال پرانے بوئنگ 400-737 کی تلاش کے کام میں مصروف ہیں۔
فضائی کمپنی ’ایڈم ایئر‘ کے لاپتہ ہونے والے طیارے بوئنگ 400 - 737 میں چھیانوے مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔ شہری ہوا بازی کے ذرائع کے مطابق طیارہ انڈونیشیا کے جزیرے جاوا سے سولاواسی کے شمال مشرقی ساحل کے لیے روانہ ہوا تھا۔ جہاز کا آخری بار پچیس دسمبر کو معائنہ کیا گیا تھا۔
![]() | |
| طیارہ جاوا سے سولاواسی کے شمال مشرقی ساحل کے لیے روانہ ہوا تھا (فائل فوٹو) |
ایڈم ایئر ایک نجی کمپنی کی ملکیت ہے جس نے دو ہزار تین میں پروازیں شروع کی تھیں۔ ایڈم ایئر کا شمار ان کم سے کم ایک درجن ستے کرائے والی فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سن انیس سو ننانوے میں ہوائی صنعت کی ڈی ریگولیشن کے بعد کاروبار شروع کیا تھا۔
گزشتہ دنوں انڈونیشیا میں خراب موسمی حالات کے باعث ایک مسافر بردار بحری جہاز ڈوب گیا تھا۔