Monday, 01 January, 2007, 07:27 GMT 12:27 PST
صومالیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج نے اسلامی ملیشیاء کے مضبوط گڑھ اور ساحلی شہر کیسمایو کا انتظام سنبھال لیا ہے۔
موگادیشو پچھلے چھ ماہ سے اسلامی ملیشیا کے قبضے میں تھا۔ ایتھوپیا نے کئی روز قبل صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
صومالی وزیراعظم نے علی محمد غیدی نے ملک میں امن اور استحکام کے لیے افریقی یونین سے امن فوج کے دستے بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے اسلامی ملیشیا کے ہتھیار ڈالنے والے کارکنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ملیشیا کو بین الاقوامی دہشت گروں نے گمراہ کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یو آئی سی کے رہنماؤں کومعافی نہیں دی
جائے گی۔
گزشتہ سال ملک بھر میں اسلامی ملیشیا کو قوت حاصل ہو گئی تھی اور کیسمایو ان کا خاص مرکز تھا۔
علی محمد غیدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کیسمایو اب حکومت کے زیر کنٹرول ہے اور اسلامی ملیشیاء وہاں سے چلی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایتھوپیا کی فوج بارودی سرنگوں اور خفیہ طور پر بچھائے دھماکہ مواد کے خطرے سے پیش نظر کیسمایو میں داخلے میں احتیاط کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
![]() | |
| اسلامی ملیشیاء کے خلاف ایتھوپیا کی فوج صومالیہ کی حکومت کی مدد کر رہی تھی |
اتوار کو ایتھوپیا کی فوج اور اسلامی ملیشیا کے درمیان ملک کے شمالی حصےمیں جلب نامی قصبے کے قریب شدید لڑائی ہوئی۔ ایتھوپیا کی فوج اسلامی ملیشیاء کے خلاف لڑائی میں صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کر رہی ہے۔
لڑائی کے باعث لاکھوں کی تعداد میں صومالی علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ مقامی امدای کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد ایسے ہیں کہ جنہیں کھانے پینے کی اشیا اور پناہ کی اشد ضرورت ہے۔
دوسری طرف کینیا کے صدر موائی کیباکی نے کہا ہے کہ وہ صومالیہ کی صورت حال پر بات چیت کے لیے مشرقی افریقہ کے ممالک کا اجلاس بلا رہے ہیں۔
اس سے قبل صومالیہ کے وزیراعظم علی محمد غیدی نے دارالحکومت موگا دیشو میں داخلے کے بعد اگلے تین ماہ کے لیے ملک میں مارشل لاء لگانے کا اعلان کیا تھا۔