Monday, 01 January, 2007, 15:23 GMT 20:23 PST
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے قریب جمعہ کو ڈوبنے والے بحری جہاز میں سوار تقریباً چار سو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق دو سو کے قریب افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔
انڈونیشیا کی بحریہ کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور سمندر کی صورت حال کی وجہ سے امدادی کاموں میں روکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔
تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں ڈوبنے والے افراد کو پانی سے باہر نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کے ردعمل سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور اطلاعات ہیں کہ حکام متاثرہ افراد کے رشتہ داروں سے تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے بحری جہاز کا ملبہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔
![]() | |
| ڈوبنے والے جہاز میں سوار لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے |
ابتداء میں مقامی پولیس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ جہاز میں سفر کرنے والوں کی فہرست کے مطابق اس میں صرف دو سو افراد سوار تھے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔
انڈونیشیا میں بحری جہاز اور کشتیاں ملک کے سترا ہزار جزائر کے درمیان سفر کا سستا اور مقبول ذریعہ ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان بحری جہازوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جاتا اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کر لیا جاتا ہے۔