Sunday, 31 December, 2006, 07:45 GMT 12:45 PST
عراقی حکومت کی جانب سے صدام حسین کی پھانسی کی تصاویر کے علاوہ وہاں پر موجود کچھ لوگوں نےموبائل فون پر بھی صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو بنائی ہے جس کو پہلے انٹرنیٹ سائٹس پر اور بعد میں عربی چینلز پر دکھایا جانے لگا ہے۔
صدام حسین جس وقت پھانسی کے تختہ پر کھڑے تھے تو وہاں موجود ایک شخص نے مقتدی الصدر کےحق میں نعرے لگائے اور صدام کو جنہم رسید ہونے کا طعنہ دیا۔تختہ دار پر کھڑے صدام حسین نے طعنوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ کیا تم اس کو بہادری سمجھتے ہو!‘
عدالت کی جانب سے پھانسی دیئے جانے کے عمل کی نگرانی کرنے والے جج منیر حداد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے سے چند منٹ پہلے ایک گارڈ نے کہا کہ کیا ان کو موت سے ڈر لگتا ہے تو صدام حسین نے جواب دیا کہ انہوں نے ساری زندگی کافروں سے لڑنے میں گزاری ہے اور انہیں موت سے ڈر نہیں لگتا۔
اس ویڈیو میں صدام حسین کی پھانسی کے بعدان کی لاش بھی دکھائی گئی ہے۔
ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ کیا ویڈیو کے جاری کرنے میں عراقی حکومت کی رضامندی بھی شامل تھی یا نہیں۔
تِختہ دار پر صدام حسین آیات پڑھنا شروع کرتے ہیں اور اس موقع پر صدام حسین کے پیروں کے نیچے سے تختہ ہٹ جاتا ہے اور ان کا جسم رسی سے جھولنے لگتا ہے۔ وہاں موجود لوگوں میں سے پھر ایک آواز آتی ہے’جابر گر گیا، لعنت ہو۔‘
مذکورہ ویڈیو کو دیکھنے سے یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے صدام حسین کو پھانسی دیئے جانے کے موقع پر موجود بعض افراد کے دلوں میں انتقام کی آگ جل رہی تھی جس کا اظہار صدام حسین اور ان افراد کے درمیان فقرے بازی کی شکل میں ہوا۔
تاہم عراقی صدر کے ترجمان حیوا عثمان نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسی کا پورا عمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیا گیا۔ انہوں نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز آور‘ کو بتایا کہ طعنے وہاں کھڑے ایک شخص نے دیئے تھے: ’ہمیں بالکل نہیں معلوم کہ صدام پر کون چلاّ رہا تھا یا وہ کس کو برابھلا کہہ رہے تھے، لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ کوئی حکومتی اہلکار تھا۔‘
بغداد میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلم سے صدام حسین کے حامیوں اور مخالفین میں خلیج اور بڑھ جائے گی۔
پھانسی کی جو فلم سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی تھی اس میں کسی طرح کی آواز نہیں تھی اور منظر سے لگ رہا تھا کہ پھانسی دینے والے اہلکار صدام حسین کو پروقار طریقے سے تختۂ دار تک لا رہے ہیں۔